My name is Muhammad Ejaz Mustafavi and this is is my personal Web blogger page. I have entered all information concerning myself on this is Web Page. You may acquire all sorts of information regarding myself.Thanks for considering

Sunday, October 22, 2017

علم و عمل (قیصرمحمود صدیقی)


((علم وعمل لازم وملزوم ہے))
بےعمل دل ہوتوجذبات سے کیا ہوتا ہے
دھرتی بنجرہو توبرسات سے کیاہوتاہے
ہے عمل لازمی تکمیل تمنا کے لیے
ورنہ رنگین خیالات سے کیا ہوتا ہے
اسلام وعلیکم دوستو آج میں آپ دوست احباب کے سامنے چند ٹوٹی پھوٹی بات رکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ میری یہ تحریر بلخصوص نوجوان طالب علموں کے لیے ہے۔
علم و عمل لازم وملزوم ہیں،ان کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔علم کی کوکھ بھانج رہتی ہےجب تک عمل کا بیج نہ بویا جائے وہ بے فیض و بیکار ہے۔دوستو عمل کے بغیر علم بےروح جسم کے مانند ہے۔علم وعمل ایک ہی وجود کے دو ہاتھ،ایک ہی گاڑی کے دو پہے اور ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔یہ ممکن ہی نہیں سفر میں ایک پہیہ خراب ہوجاے اور گاڑی صحیح سلامت اپنی منزل تک پہنج جائے۔یقینان علم نہایت ضروری ہے۔آج انسانوں نےچاند پر قدم رکھا ہے،سمندر کے تہ تک پہنچا ہے،قسم قسم کے عقل دھنگ کرنےوالی ایجادات کیے ہیں تو اسی
علم کے زریعے کیا ہے۔بقول شاعر
علم ہے میراث آدم علم ہے راز حیات
علم کی ضو سے ہےروشن یہ ساری کاینات
علم کے بارے میں کسی دانا کا قول ہے۔"جس آدمی میں علم نہیں وہ آدمی نہیں جانور ہے،جس گھر میں کوی علم والا نہیں وہ گھر نہیں جانوروں کا دھڑبا ہے اور جس شہرمیں علم والا نہیں وہ شہر نہیں حیوانات کا جنگل ہے" علم ہی وہ خزانہ ہے جو انسان کو کاینات کے ہر شے سےممتاز بنا دیتا ہے۔اسی لیے خدا تعلی قرآن عظیم وشان میں ارشاد فرماتا ہے:
"کہدیجے اے حبیب کیا جاننے والا اور نہیں جاننے والا برابر ہو سکتا ہے"
پیارےدوستو جاننے والا اور نہ جاننے والا کبھی برابر نہیں ہوسکتا۔ جاننے والا سے مراد عالم اور نہ جاننۓ والا سے مراد جاہل ہے۔اس سے بڑی سعادت کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ عالم کی دو رکعت کی نماز جاہل کی ١٠٠٠رکعت کی نماز سے بہتر ہے۔
اسلام میں علم کی بڑی فضیلت بیان کی گی ہے۔حضورﷺ نے فرمایا۔"مجھے معلم بنا کر بیجھا گیا ہے" اور حضورﷺ نے علم کو عملی جامہ پہنا کر دنیاے عالم کو دیکھایا اور فرمایا "علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے"۔ساتھیو یہ چند باتیں ہوئ علم پرمگر یہ بات حقیقت ہے کہ عمل کے بغیر علم (چوں تنے بے روح است) یعنی مردہ جسم کے مانند ہے۔عمل ہی وہ چیز ہے جو بندے کو اللہ کے سامنے ممتاز بنا دیتا ہے۔بقول شاعر
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
عمل ہی انسان کو حیوان سے اشرف المخلوقات کے اعلی مقام پر پہنچا دیتا ہے۔مگر افسوس، اس پر فتن دور میں تعلیم کا رجحان دن بدن عروج کی طرف بڑھ رہا ہے لیکن عمل پیہم نا ہونے کی وجہ سے انسانیت کے نیچلے درجے میں پہنج گے ہیں۔مسلمانو زرہ تکیےپر سر رکھ کر سوچئے،جہدمسلسل اور عمل پیہم ہو نے کی وجہ سے ہر میدان میں مسلمان آگے تھے۔خواہ وہ جنگ کا میدان ہو،مناظرے کا میدان ہو یا کوئ اور۔علم کے ساتھ عمل ہونے کی وجہ سے قیصرو کسری کےغرور تکبر کوقدموں تلے روند دیا۔اس کے مقابل اج کے دور میں ہرقسم کےآلائش اور سہولیات ہونے کے باوجود مسلمان مختلف مسائل اورمثائب کا شکار ہے۔مسلمان مسلمان کا گلہ کاٹ رہا ہے،رشوت اقرباء پروری اور ڈھکہ زنی عام ہو رہے ہیں۔یہ سارے علم کے ساتھ عمل نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔افسوس ہمیں اس بات پر سوچنا چاہےکہ ہم مسلمان ہے اور اللہ کے سامنے جواب دہ ہونا ہے۔تو ہمیں چاہیے علم کے ساتھ ساتھ عمل کے زریعے اپنی دنیا اور آخرت سجایں۔میں یقین کے ساتھ کھ سکتا ہوں کہ اس وقت علم کے ساتھ ساتھ عمل کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایں توکوئ طاقت ہمیں روک نہیں سکتا۔عزیز ساتھیو: آج سے عزم کریں کہ عمل کے زریعےہم ایک بار پھر معاشرےکوگلزار بنانے میں کردار ادا کریں گے اور اخلاق کی پرچار کے لیے تن،من اور دھن قربان کریں گے۔اللہ ہمیں علم کے ساتھ عمل کر نے کی توفیق عطا فرما۔آمین
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سر آدم ہے ضمیرکن فکاں ہے زندگی

تحریر: قیصرمحمودصدیقی گربا
طالبعلم:شریعہ وقانون بین لاقوامی اسلامیک یونیورسٹی اسلام آباد
Share:

0 comments:

Post a Comment

Copyright © Muhammad Ejaz Mustafavi | Powered by Blogger
Design by SimpleWpThemes | Blogger Theme by NewBloggerThemes.com