سفر عشق:
ذرا چشم تصور کیجیے! آج سے تقریباً چودہ سو (1400) سال پہلے، عشق کا یہ سفر اٹھائیس (28) رجب المرجب ساٹھ (60) ہجری کو مدینہ منورہ سے شروع ہوا اور دس محرم الحرام اکسٹھ (61) ہجری کو، تقریباً ایک سو ساٹھ (160) دنوں میں، کربلائے معلی پہنچا۔ اہل بیتِ رسولِ خدا علیہ السلام نے جس انداز سے اسلام کی سلامتی اور بقائے دین کے لیے یہ سفر کیا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ سفر جغرافیائی اعتبار سے بھی ناقابلِ یقین حد تک طویل تھا۔
* مدینہ سے مکہ: تقریباً 450 کلومیٹر (280 میل)
* مکہ سے کربلا: تقریباً 1450 کلومیٹر (900 میل)
کربلا سے شام اور شام سے کربلا : تقریباً (850*2) 1700 کلومیٹر (1060 میل)*
* کربلا سے دوبارہ مدینہ: 1350 کلومیٹر (840 میل)
یہ کُل ملا کر چارہزار نوسوپچاس (4950) کلومیٹر یا 3075 میل کا "سفرِ عشق" تھا، جو چودہ سو سال پہلے بغیر کسی سفری سہولت کے طے کیا گیا۔ آج کے حساب سے یہ سفر تین ممالک کو عبور کرنے کے مترادف ہے، تو ذرا سوچیں اس وقت یہ کتنا لمبا اور مشکل سفر رہا ہوگا۔
کیا یہ سفر اس دور میں آسان تھا؟ ہرگز نہیں! یہ صرف "سفرِ عشق" تھا، جسے نواسۂ رسول، امام حسین ابن علی علیہ السلام اور ان کے گھرانے ہی سرانجام دے سکتے تھے۔
بس یہی ہے
شاہ اَست حُسینؑ بادشاہ اَست حُسینؑ
دِین اَست حُسینؑ دِیں پناہ اَست حُسینؑ
سر داد نا داد دَست دَر دَستِ یَزید
حَقآ کے بِنا لا الہ اَست حُسینؑ
ایک صبر آزما سفر:
کیا یہ سفر آسان تھا ، ہرگز نہیں۔ یہ ایک ایسا صبر آزما اور کٹھن سفر تھا جس میں چھ ماہ کے علی اصغرؑ سے لے کر اسی (80) سالہ بزرگ صحابی حبیب بن مظاہر الاسدی، اور چار سالہ سکینہ بنت الحسینؑ سے لے کر پچپن (55) سالہ عظیم خاتون سیدتنا زینب بنت علی سلام اللہ علیہا جیسی ہستیاں شامل تھیں۔ اس قافلے کی قیادت چھپن (56) سال کی عمر میں میرِ کارواں سیدنا امام حسین علیہ السلام فرما رہے تھے۔
اس کے علاوہ، قافلے میں ایک بائیس (22) سالہ بیمار جوان، سیدنا زین العابدین علیہ السلام بھی ہمراہ تھے۔
آج کے دور میں بھی تمام سفری سہولیات کے باوجود اتنا لمبا سفر مشکل ہوتا ہے، لیکن ذرا تصور کیجیے اس دور میں یہ قافلہ کن کن مصائب سے گزرا ہوگا اور کتنی مشکلات کے بعد واپس مدینہ پہنچا ہوگا۔ عرب کے گرم اور تپتے ریگستانوں سے کیسے گزرے ہوں گے، اور کربلا کے میدان میں ان کی کیا حالت ہوگی؟
ان تمام مصائب کو برداشت کرنے کے بعد، کربلا کے کھلے میدان میں اہل بیتِ رسولؐ پر تین دن تک پانی بھی بند رکھا گیا۔ اس صورتحال میں ان ننھے بچوں، جوانوں، بوڑھوں اور بیماروں کی کیا کیفیت ہوگی؟ یہ کیفیت وہی قافلہ سمجھ سکتا ہے یا خدا بہتر جانتا ہے۔ ہمارے لیے تو ان مصائب کو سوچنا بھی انتہائی مشکل ہے۔
سفرِ کربلا: ایک نہیں، تین ہیں:
حقیقتاً دیکھا جائے تو یہ ایک سفر نہیں بلکہ تین مختلف اسفار کا مجموعہ ہے، جو اپنی نوعیت میں منفرد اور قربانی کی لازوال داستانیں رقم کرتے ہیں۔
* پہلا سفر: یہ مدینہ منورہ سے شروع ہو کر مکہ مکرمہ اور پھر وہاں سے عراق، یعنی کربلا تک کا سفر ہے۔ یہ ہجرت اور دین کی خاطر وطن چھوڑنے کا سفر تھا۔
* دوسرا سفر: یہ "سفرِ عشق" ہے جو عاشور کے دن صبح سے شام تک جاری رہا۔ یہ شہادتوں کا سفر ہے جہاں امام حسینؑ اور ان کے جانثاروں نے راہِ خدا میں اپنی جانیں قربان کیں۔
* تیسرا سفر: یہ کربلا سے دمشق (شام) تک اور پھر وہاں سے واپس کربلا پھر مدینہ منورہ تک کا سفر ہے۔ یہ اسیری، صبر، اور پیغامِ حق کو عام کرنے کا سفر تھا۔
مدینہ سے روانگی: ایک قیامت کا منظر:
پہلا سفر، یعنی مدینہ منورہ کو چھوڑنے کا سفر، جس میں اہل بیتِ اطہارؑ نے اپنے نانا پاک، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری سلام کیا، اس وقت اس خاندان کی کیا کیفیت ہوگی؟ جب ہم معمولی زائرین بھی روضہ رسولؐ کو چھوڑتے ہوئے دل میں اداسی اور آنکھوں میں نمی محسوس کرتے ہیں، تو اس گھرانے کا کیا عالم ہوگا جو بچپن سے مدینہ کی گلیوں میں پلا بڑھا ہو؟ جن کے گھر کا دروازہ سیدھا مسجد نبویؐ میں کھلتا ہو، اور جنہوں نے اپنی ساری زندگی اسی شہر کی گلی کوچوں اور مسجدوں میں گزاری ہو؟
اس قافلے کے لیے مدینہ چھوڑنا ہی ایک قیامت سے کم نہ تھا۔ لیکن دینِ اسلام کی سرفرازی اور حرمتِ مدینہ کے تحفظ کی خاطر،انہوں نے یہ عظیم قربانی پیش کی۔ یہ صرف ایک شہر چھوڑنا نہیں تھا، بلکہ اپنی تمام تر آسائشوں، یادوں، اور سکون کو قربان کر کے ایک ایسے راستے پر گامزن ہونا تھا جہاں ان کی منزل شہادت تھی۔
اہل بیتؑ پر ظلم:
کیا امت مسلمہ کو اہل بیتِ نبوتؑ اور نواسۂ رسولؐ، امام حسینؑ، پر اتنے وحشیانہ مظالم روا رکھنے کا حق حاصل تھا؟
ایک ایسا سوال جس کا جواب "ہرگز نہیں" ہے! امت کو یہ حق قطعاً نہیں پہنچتا تھا کہ وہ خاندانِ اہل بیت علیہم السلام اور خاص طور پر امام حسین علیہ السلام کے سامنے ظلم کے ایسے پہاڑ توڑے۔
حضور اکرم صَلَّىٰ اللَّٰهُ عَلَيْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ نے بارہا اپنے اہل بیت کی محبت، عزت، اور ان سے وفاداری کا حکم دیا تھا۔ قرآن کریم نے بھی اہل بیت سے محبت کو ایمان کا حصہ قرار دیا۔ ان تمام احکامات کے باوجود، رسول اللہ صَلَّىٰ اللَّٰهُ عَلَيْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ کی وفات کے بعد، ان کے نواسے پر—جنہیں آپ صَلَّىٰ اللَّٰهُ عَلَيْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ نے اپنے کندھوں پر بٹھایا اور جنہیں جنت کے جوانوں کا سردار قرار دیا—اور ان کے پاکیزہ خاندان پر ایسا ظلم و ستم ڈھایا گیا جو انسانی تاریخ میں اپنی مثال نہیں رکھتا۔
دوسراسفر،سفرِ عشق:
دوسرا سفر، جسے سفرِ عشق کہا جاتا ہے، کربلا کی صبح سے شام تک شہادتوں کا وہ سلسلہ ہے جس کی مثال تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی۔ یہ وہ سفر ہے جہاں راہِ خدا میں امام حسین علیہ السلام نے بے مثال قربانیاں پیش کیں۔
اس سفر میں کبھی آپ اپنے اٹھارہ سالہ جوان بیٹے، شبیہِ پیغمبرِ خدا، علی اکبر کو راہِ حق میں پیش کرتے ہیں، تو کبھی قمرِ بنی ہاشم، شبیہِ شیرِ خدا، حضرت عباس علمدار کی قربانی دیتے ہیں۔
کبھی چھ مہینے کے شیرخوار علی اصغر کا حلقوم تیر سے چھلنی ہوتا ہے، تو کبھی اہل بیت کے اسی (80) سالہ جانثار، حبیب بن مظاہر، اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ یہ وہ قربانیاں ہیں جو ایثار، صبر اور وفا کی ایسی داستان رقم کر گئیں جو قیامت تک حق پرستوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ یہ سفرِ عشق ہمیں سکھاتا ہے کہ راہِ خدا میں ہر عزیز شے قربان کی جا سکتی ہے، اور حق کی سر بلندی کے لیے ہر مشکل کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔
بقول علامہ اقبال ،
اسلام کے دامن میں اور اس کے سوا کیا ہے
اک ضربِ ید اللّٰہی ، اک سجدئہ شبیری
تیسرا سفر: کربلا سے مدینہ تک کا صبر آزما مرحلہ:
عاشور کے دن، غروبِ آفتاب کے بعد، ایک ایسا سفر شروع ہوا جو اپنی مثال آپ ہے۔ یہ سفرِ شام تھا، جو کربلا سے کوفہ و شام کے راستے ہوتے ہوئے واپس کربلا پھر مدینہ منورہ پہنچا۔ اس سفر میں دی گئی قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ہاتھ کانپ جاتے ہیں۔
کیا یہ امت اتنی گر سکتی تھی؟ اپنے نبی صَلَّىٰ اللَّٰهُ عَلَيْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ کے گھرانے کی محرمات کو گلی کوچوں میں گھمانا، جن کے ساتھ ایک بیمار مرد کے علاوہ سبھی خواتین تھیں۔ ایسی خواتین جن کی ماں خاتونِ جنت کہلاتی ہے اور جنہوں نے کبھی بازار کی شکل بھی نہیں دیکھی تھی، لیکن آج اسی گھرانے کو مجبوراً گلیوں اور بازاروں میں پھرایا جا رہا تھا۔ جن ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں نے اپنی تمام زندگی میں کبھی کسی نامحرم کو نہیں دیکھا تھا، جن پر کبھی کسی غیر نامحرم مرد کی نظر نہیں پڑی تھی، آج وہی پردہ نشین ہستیاں ایک قافلے کی صورت میں کوفہ اور شام کی گلیوں اور بازاروں میں پھرائی جا رہی تھیں۔
اس قافلے کی سردار، سیدتنا زینب بنت علی سلام اللہ علیہا تھیں، جو اپنے بابا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عزم، ہمت اور حوصلے کا عظیم پیکر بن گئیں۔ انہوں نے پوری دنیا کو دکھا دیا کہ علی کی بیٹی ایسی ہوتی ہے۔
تصور کیجیے! مولا علی علیہ السلام کی بیٹی، سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے یہ پورا سفر کیسے طے کیا ہوگا؟ انہوں نے کتنی مصیبتیں اور اذیتیں برداشت کی ہوں گی؟ ایک طرف بھائیوں، بھتیجوں، بیٹوں کی شہادت کا غم، دوسری طرف اہل بیتؑ کی خواتین اور بچوں کو بے پردہ لیے پھرنا۔ ہر قدم پر نیا امتحان، ہر لمحہ نئی آزمائش۔
ان کا صبر، ان کی استقامت، اور ان کی غیرت نے اس سفر کو نہ صرف ایک دردناک داستان بلکہ ایک لازوال پیغام میں بدل دیا۔ اس سفر نے آنے والی نسلوں کے لیے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے اور حق پر ڈٹے رہنے کی ایک روشن مثال قائم کی۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی قیادت میں یہ قافلہ، کوفہ اور شام سے ہوتا ہوا، چالیس دن بعد اُس مقام پر پہنچا جہاں ان کے تمام مرد اہلِ خانہ شہید کیے گئے تھے۔
کربلا کی سرزمین پر بیس صفر المرجب کی شام کیسا منظر پیش کرتی ہوگی، جب اسیرانِ کربلا بے یار و مددگار اپنے پیاروں کو یاد کر رہے تھے۔ کربلا کے بعد یہ قافلہ مدینہ کی جانب روانہ ہوا اور بالآخر دو سو بائیس (222) دن کے طویل سفر کے بعد مدینہ منورہ پہنچا۔
یہ قافلہ جب مدینہ منورہ میں داخل ہوا ہوگا، تو کیا منظر رہا ہوگا؟ اپنے نانا، رسول اللہ صَلَّىٰ اللَّٰهُ عَلَيْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ کے روضہ مبارک پر پہنچ کر انہوں نے کیا کیا سنایا ہوگا؟ وہ دل دہلا دینے والی داستانیں، وہ لہو رلا دینے والے واقعات، جو انہوں نے کربلا سے شام تک کے سفر میں دیکھے اور سہے تھے۔ ذرا چشمِ تصور تو کیجیے!
بنی ہاشم کی لازوال قربانیاں: ایک منفرد داستان:
اسلام کی سربلندی کے لیے خاندانِ بنی ہاشم کی قربانیوں کا انداز واقعی نرالا اور بے مثال ہے۔
حضور اکرم صَلَّىٰ اللَّٰهُ عَلَيْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ کی ذاتِ مبارکہ کی پرورش کا عظیم فریضہ آپ کے بچپن سے لے کر اپنی وفات تک جناب حضرت ابوطالب علیہ السلام نے سرانجام دیا۔ یہ ان کی ہی پرعزم موجودگی تھی جس کے باعث کفارِ مکہ کو کبھی بھی آپ صَلَّىٰ اللَّٰهُ عَلَيْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ پر ظلم کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔ انہوں نے اپنے لختِ جگر حضرت علی علیہ السلام کو بھی بچپن سے ہی دینِ اسلام کے لیے وقف کر دیا تھا، یہی وجہ ہے کہ مولا علی علیہ السلام ہر میدان میں "اشداء علی الکفار" (کافروں پر سخت) ثابت ہوئے۔
مولا کائنات حضرت علی علیہ السلام کا مقام و مرتبہ خود آقا دوجہاں صَلَّىٰ اللَّٰهُ عَلَيْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ نے غدیرِ خم کے مقام پر سب پر عیاں کر دیا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اپنی بچپن سے لے کر شہادت تک اس امت کی کامیابی و کامرانی کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر پیش کی۔ آپ کی شہادت کے انیس (19) سال بعد بھی، میدانِ کربلا میں آپ نے اپنے چھے بیٹوں کی قربانی پیش کی۔
آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت حسن بن علی علیہ السلام نے اپنی شہادت کے دس سال بعد بھی اپنی طرف سے دو بیٹوں کی قربانی کربلا میں پیش کی۔ اور پھر، آپ کے لاڈلے بیٹے مولا حسین ابن علی علیہ السلام نے اپنے دو بیٹوں سمیت میدانِ کربلا میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ یہ سب قربانیاں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ بنی ہاشم نے اسلام کے لیے کس قدر عظیم اور بے مثال ایثار پیش کیا۔
امتحانِ الٰہی اور مشنِ حسینیؑ:
اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے: "اور ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے خوف، بھوک، پیاس، جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔" اس آیت میں اللہ تعالیٰ تمام انسانوں سے مخاطب ہو کر آزمائش کے طریقوں اور اس کے نتائج سے آگاہ فرما رہے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ ہر نیک شخص کو طرح طرح کے امتحانات سے گزرنا پڑا ہے۔ کسی کو بھوکا پیاسا رکھا گیا، کسی کو آگ میں کودنے کا حکم ملا، کسی کو اولاد کے ذریعے آزمایا گیا، کسی کو میوہ کھانے سے روک کر امتحان لیا گیا، اور کسی کو بیماری کے ذریعے آزمایا گیا۔
آج ہم ایک ایسی ہستی کے طریقِ امتحان کو بیان کرنے جا رہے ہیں جن کے لیے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ان کی ذاتِ اطہر پر بیک وقت خوف، بھوک، پیاس، اولاد، جان، اور پھلوں کے امتحان آئے۔ جب خوف کے امتحان میں کامیاب ہوئے تو انہیں "خلیل اللہ" کا خطاب ملا، اولاد کے امتحان میں کامیاب ہوئے تو انہیں "صابر" کہا گیا، اور جب نفس کے امتحان میں کامیاب ہوئے تو انہیں "ذبیح اللہ" کا خطاب ملا۔ تو آج میں اپنے حسینؑ کو کیا خطاب دوں جنہوں نے بیک وقت ہر طرح کے امتحانات پاس کیے۔ آج میں اپنے حسینؑ کو کیا خطاب دوں جنہوں نے اسلام کے احیاء و بقا کے لیے یزید جیسے لعنتی کی بیعت نہ کرتے ہوئے میدانِ کربلا میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپؑ اور آپؑ کے اصحابِ کرامؑ کو تین دن بھوکا پیاسا رہنا پڑا۔ شہرِ مدینہ کو چھوڑ کر حج کو عمرے میں بدل ڈالا۔ اولاد کی قربانی کے لیے اکبر و اصغرؑ کو ساتھ رکھا اور اصحابِ کرامؑ میں حبیبؑ جیسے بزرگوں کی قربانی دی۔ اور جب نفس کی ضرورت پڑی تو اسلام کی خاطر سب کچھ لٹا کر بارگاہِ ایزدی میں یوں دعا فرمائی: "یا اللہ! میری یہ ان بہتر نفوس کی قربانی کے صدقے اسلام کو تا قیامت زندہ رکھ!"
میں حضرت سید الشہداء اور ان کے اصحابِ کرامؑ کی کن کن خوبیوں اور صفات کا ذکر کروں اور کس کس کا نام لوں۔ بہتر جانثاروں کے سردار، میرے اور آپ کے آقا کے بارے میں اتنا ہی کہوں گا کہ میرے حسینؑ پر بیک وقت ایسے امتحانات آئے جو بڑے بڑے پیغمبروں پر بھی شاید نہ آئے ہوں۔ میرا سلام ہو حسینؑ اور اہل بیتِ حسینؑ پر۔ میرا سلام ہو یتیمان و اسیرانِ کربلا پر۔
حسینیؑ ہونے کا دعویٰ اور آج کی حقیقت:
تاہم، اس دور میں ہر کوئی حسینیؑ کا نعرہ تو بلند کرتا ہے لیکن مشنِ حسینیؑ کو آگے بڑھائے بغیر مقصد پورا نہیں ہوتا۔ آج ہم مشنِ حسینیؑ کو دبا کر مشنِ یزید کو آگے بڑھا رہے ہیں، پھر بھی ہم حسینی؟ حسینؑ نے تو دین کے لیے اپنی جان قربان کی اور آج ہم اپنی جان کے لیے ایمان بیچ رہے ہیں، پھر بھی ہم حسینی؟ تلاوتِ قرآن اور ذکرِ خدا کے لیے ہمارے پاس وقت ہی نہیں، پھر بھی ہم حسینی؟ نماز نہیں پڑھتے، روزہ نہیں رکھتے، زکوٰۃ نہیں دیتے، پھر بھی ہم حسینی؟ بد دیانتی، بدکاری، بے غیرتی، بے حیائی اور بے شرمی عام ہو، پھر بھی ہم حسینی؟ غریبوں سے نفرت، امیروں سے محبت کرتے ہیں، پھر بھی ہم حسینی؟ اصلاح کرنے کی ہمت نہیں، انصاف کے لیے وقت نہیں، فکر کرنے کے لیے فرصت نہیں، پھر بھی ہم حسینی؟
یہ کیسا حسینیؑ ہونا ہے؟ ہمیں اپنے دعوے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہمارا یہی حال رہا تو "شکلِ عاشق سے معشوق بیزار ہے" والی بات ہوگی۔ ہمیں اصل مشنِ حسینیؑ کو دنیا میں پھیلانے کی ضرورت ہے، اخلاق، آداب، غیرت، حمیت، جمعیت، تلاوت، معاشرت، اور سخاوت سیکھنے اور سکھانے کی ضرورت ہے۔
(ازقلم محمداعجازمصطفوی)
Date: 07-07-2025




