My name is Muhammad Ejaz Mustafavi and this is is my personal Web blogger page. I have entered all information concerning myself on this is Web Page. You may acquire all sorts of information regarding myself.Thanks for considering

  • Gen Raheel Shareef and me
  • Mera Murshid mera sb kuch
  • My University

    International Islamic University Islamabad Pakistan

Wednesday, June 24, 2026

کربلا – زرا چشم تصور تو کجیئے ( محمداعجازمصطفوی)



کربلا – زرا چشم تصور تو کجیئے:



سفر عشق:


ذرا چشم تصور کیجیے! آج سے تقریباً چودہ سو (1400) سال پہلے، عشق کا یہ سفر اٹھائیس (28) رجب المرجب ساٹھ (60) ہجری کو مدینہ منورہ سے شروع ہوا اور دس محرم الحرام اکسٹھ (61) ہجری کو، تقریباً ایک سو ساٹھ (160) دنوں میں، کربلائے معلی پہنچا۔ اہل بیتِ رسولِ خدا علیہ السلام نے جس انداز سے اسلام کی سلامتی اور بقائے دین کے لیے یہ سفر کیا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ سفر جغرافیائی اعتبار سے بھی ناقابلِ یقین حد تک طویل تھا۔



* مدینہ سے مکہ: تقریباً 450 کلومیٹر (280 میل)


* مکہ سے کربلا: تقریباً 1450 کلومیٹر (900 میل)


کربلا سے شام اور شام سے کربلا : تقریباً (850*2) 1700 کلومیٹر (1060 میل)*


* کربلا سے دوبارہ مدینہ: 1350 کلومیٹر (840 میل)


یہ کُل ملا کر چارہزار نوسوپچاس (4950) کلومیٹر یا 3075 میل کا "سفرِ عشق" تھا، جو چودہ سو سال پہلے بغیر کسی سفری سہولت کے طے کیا گیا۔ آج کے حساب سے یہ سفر تین ممالک کو عبور کرنے کے مترادف ہے، تو ذرا سوچیں اس وقت یہ کتنا لمبا اور مشکل سفر رہا ہوگا۔


کیا یہ سفر اس دور میں آسان تھا؟ ہرگز نہیں! یہ صرف "سفرِ عشق" تھا، جسے نواسۂ رسول، امام حسین ابن علی علیہ السلام اور ان کے گھرانے ہی سرانجام دے سکتے تھے۔


بس یہی ہے


شاہ اَست حُسینؑ بادشاہ اَست حُسینؑ


دِین اَست حُسینؑ دِیں پناہ اَست حُسینؑ


سر داد نا داد دَست دَر دَستِ یَزید


حَقآ کے بِنا لا الہ اَست حُسینؑ


ایک صبر آزما سفر:


کیا یہ سفر آسان تھا ، ہرگز نہیں۔ یہ ایک ایسا صبر آزما اور کٹھن سفر تھا جس میں چھ ماہ کے علی اصغرؑ سے لے کر اسی (80) سالہ بزرگ صحابی حبیب بن مظاہر الاسدی، اور چار سالہ سکینہ بنت الحسینؑ سے لے کر پچپن (55) سالہ عظیم خاتون سیدتنا زینب بنت علی سلام اللہ علیہا جیسی ہستیاں شامل تھیں۔ اس قافلے کی قیادت چھپن (56) سال کی عمر میں میرِ کارواں سیدنا امام حسین علیہ السلام فرما رہے تھے۔


اس کے علاوہ، قافلے میں ایک بائیس (22) سالہ بیمار جوان، سیدنا زین العابدین علیہ السلام بھی ہمراہ تھے۔


آج کے دور میں بھی تمام سفری سہولیات کے باوجود اتنا لمبا سفر مشکل ہوتا ہے، لیکن ذرا تصور کیجیے اس دور میں یہ قافلہ کن کن مصائب سے گزرا ہوگا اور کتنی مشکلات کے بعد واپس مدینہ پہنچا ہوگا۔ عرب کے گرم اور تپتے ریگستانوں سے کیسے گزرے ہوں گے، اور کربلا کے میدان میں ان کی کیا حالت ہوگی؟


ان تمام مصائب کو برداشت کرنے کے بعد، کربلا کے کھلے میدان میں اہل بیتِ رسولؐ پر تین دن تک پانی بھی بند رکھا گیا۔ اس صورتحال میں ان ننھے بچوں، جوانوں، بوڑھوں اور بیماروں کی کیا کیفیت ہوگی؟ یہ کیفیت وہی قافلہ سمجھ سکتا ہے یا خدا بہتر جانتا ہے۔ ہمارے لیے تو ان مصائب کو سوچنا بھی انتہائی مشکل ہے۔


سفرِ کربلا: ایک نہیں، تین ہیں:


حقیقتاً دیکھا جائے تو یہ ایک سفر نہیں بلکہ تین مختلف اسفار کا مجموعہ ہے، جو اپنی نوعیت میں منفرد اور قربانی کی لازوال داستانیں رقم کرتے ہیں۔


* پہلا سفر: یہ مدینہ منورہ سے شروع ہو کر مکہ مکرمہ اور پھر وہاں سے عراق، یعنی کربلا تک کا سفر ہے۔ یہ ہجرت اور دین کی خاطر وطن چھوڑنے کا سفر تھا۔


* دوسرا سفر: یہ "سفرِ عشق" ہے جو عاشور کے دن صبح سے شام تک جاری رہا۔ یہ شہادتوں کا سفر ہے جہاں امام حسینؑ اور ان کے جانثاروں نے راہِ خدا میں اپنی جانیں قربان کیں۔


* تیسرا سفر: یہ کربلا سے دمشق (شام) تک اور پھر وہاں سے واپس کربلا پھر مدینہ منورہ تک کا سفر ہے۔ یہ اسیری، صبر، اور پیغامِ حق کو عام کرنے کا سفر تھا۔


مدینہ سے روانگی: ایک قیامت کا منظر:


پہلا سفر، یعنی مدینہ منورہ کو چھوڑنے کا سفر، جس میں اہل بیتِ اطہارؑ نے اپنے نانا پاک، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری سلام کیا، اس وقت اس خاندان کی کیا کیفیت ہوگی؟ جب ہم معمولی زائرین بھی روضہ رسولؐ کو چھوڑتے ہوئے دل میں اداسی اور آنکھوں میں نمی محسوس کرتے ہیں، تو اس گھرانے کا کیا عالم ہوگا جو بچپن سے مدینہ کی گلیوں میں پلا بڑھا ہو؟ جن کے گھر کا دروازہ سیدھا مسجد نبویؐ میں کھلتا ہو، اور جنہوں نے اپنی ساری زندگی اسی شہر کی گلی کوچوں اور مسجدوں میں گزاری ہو؟


اس قافلے کے لیے مدینہ چھوڑنا ہی ایک قیامت سے کم نہ تھا۔ لیکن دینِ اسلام کی سرفرازی اور حرمتِ مدینہ کے تحفظ کی خاطر،انہوں نے یہ عظیم قربانی پیش کی۔ یہ صرف ایک شہر چھوڑنا نہیں تھا، بلکہ اپنی تمام تر آسائشوں، یادوں، اور سکون کو قربان کر کے ایک ایسے راستے پر گامزن ہونا تھا جہاں ان کی منزل شہادت تھی۔


اہل بیتؑ پر ظلم:


کیا امت مسلمہ کو اہل بیتِ نبوتؑ اور نواسۂ رسولؐ، امام حسینؑ، پر اتنے وحشیانہ مظالم روا رکھنے کا حق حاصل تھا؟


ایک ایسا سوال جس کا جواب "ہرگز نہیں" ہے! امت کو یہ حق قطعاً نہیں پہنچتا تھا کہ وہ خاندانِ اہل بیت علیہم السلام اور خاص طور پر امام حسین علیہ السلام کے سامنے ظلم کے ایسے پہاڑ توڑے۔


حضور اکرم صَلَّىٰ اللَّٰهُ عَلَيْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ نے بارہا اپنے اہل بیت کی محبت، عزت، اور ان سے وفاداری کا حکم دیا تھا۔ قرآن کریم نے بھی اہل بیت سے محبت کو ایمان کا حصہ قرار دیا۔ ان تمام احکامات کے باوجود، رسول اللہ صَلَّىٰ اللَّٰهُ عَلَيْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ کی وفات کے بعد، ان کے نواسے پر—جنہیں آپ صَلَّىٰ اللَّٰهُ عَلَيْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ نے اپنے کندھوں پر بٹھایا اور جنہیں جنت کے جوانوں کا سردار قرار دیا—اور ان کے پاکیزہ خاندان پر ایسا ظلم و ستم ڈھایا گیا جو انسانی تاریخ میں اپنی مثال نہیں رکھتا۔


دوسراسفر،سفرِ عشق:


دوسرا سفر، جسے سفرِ عشق کہا جاتا ہے، کربلا کی صبح سے شام تک شہادتوں کا وہ سلسلہ ہے جس کی مثال تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی۔ یہ وہ سفر ہے جہاں راہِ خدا میں امام حسین علیہ السلام نے بے مثال قربانیاں پیش کیں۔


اس سفر میں کبھی آپ اپنے اٹھارہ سالہ جوان بیٹے، شبیہِ پیغمبرِ خدا، علی اکبر کو راہِ حق میں پیش کرتے ہیں، تو کبھی قمرِ بنی ہاشم، شبیہِ شیرِ خدا، حضرت عباس علمدار کی قربانی دیتے ہیں۔


کبھی چھ مہینے کے شیرخوار علی اصغر کا حلقوم تیر سے چھلنی ہوتا ہے، تو کبھی اہل بیت کے اسی (80) سالہ جانثار، حبیب بن مظاہر، اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ یہ وہ قربانیاں ہیں جو ایثار، صبر اور وفا کی ایسی داستان رقم کر گئیں جو قیامت تک حق پرستوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ یہ سفرِ عشق ہمیں سکھاتا ہے کہ راہِ خدا میں ہر عزیز شے قربان کی جا سکتی ہے، اور حق کی سر بلندی کے لیے ہر مشکل کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔


بقول علامہ اقبال ،


اسلام کے دامن میں اور اس کے سوا کیا ہے


اک ضربِ ید اللّٰہی ، اک سجدئہ شبیری




تیسرا سفر: کربلا سے مدینہ تک کا صبر آزما مرحلہ:


عاشور کے دن، غروبِ آفتاب کے بعد، ایک ایسا سفر شروع ہوا جو اپنی مثال آپ ہے۔ یہ سفرِ شام تھا، جو کربلا سے کوفہ و شام کے راستے ہوتے ہوئے واپس کربلا پھر مدینہ منورہ پہنچا۔ اس سفر میں دی گئی قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ہاتھ کانپ جاتے ہیں۔


کیا یہ امت اتنی گر سکتی تھی؟ اپنے نبی صَلَّىٰ اللَّٰهُ عَلَيْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ کے گھرانے کی محرمات کو گلی کوچوں میں گھمانا، جن کے ساتھ ایک بیمار مرد کے علاوہ سبھی خواتین تھیں۔ ایسی خواتین جن کی ماں خاتونِ جنت کہلاتی ہے اور جنہوں نے کبھی بازار کی شکل بھی نہیں دیکھی تھی، لیکن آج اسی گھرانے کو مجبوراً گلیوں اور بازاروں میں پھرایا جا رہا تھا۔ جن ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں نے اپنی تمام زندگی میں کبھی کسی نامحرم کو نہیں دیکھا تھا، جن پر کبھی کسی غیر نامحرم مرد کی نظر نہیں پڑی تھی، آج وہی پردہ نشین ہستیاں ایک قافلے کی صورت میں کوفہ اور شام کی گلیوں اور بازاروں میں پھرائی جا رہی تھیں۔


اس قافلے کی سردار، سیدتنا زینب بنت علی سلام اللہ علیہا تھیں، جو اپنے بابا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عزم، ہمت اور حوصلے کا عظیم پیکر بن گئیں۔ انہوں نے پوری دنیا کو دکھا دیا کہ علی کی بیٹی ایسی ہوتی ہے۔


تصور کیجیے! مولا علی علیہ السلام کی بیٹی، سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے یہ پورا سفر کیسے طے کیا ہوگا؟ انہوں نے کتنی مصیبتیں اور اذیتیں برداشت کی ہوں گی؟ ایک طرف بھائیوں، بھتیجوں، بیٹوں کی شہادت کا غم، دوسری طرف اہل بیتؑ کی خواتین اور بچوں کو بے پردہ لیے پھرنا۔ ہر قدم پر نیا امتحان، ہر لمحہ نئی آزمائش۔


ان کا صبر، ان کی استقامت، اور ان کی غیرت نے اس سفر کو نہ صرف ایک دردناک داستان بلکہ ایک لازوال پیغام میں بدل دیا۔ اس سفر نے آنے والی نسلوں کے لیے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے اور حق پر ڈٹے رہنے کی ایک روشن مثال قائم کی۔


حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی قیادت میں یہ قافلہ، کوفہ اور شام سے ہوتا ہوا، چالیس دن بعد اُس مقام پر پہنچا جہاں ان کے تمام مرد اہلِ خانہ شہید کیے گئے تھے۔


کربلا کی سرزمین پر بیس صفر المرجب کی شام کیسا منظر پیش کرتی ہوگی، جب اسیرانِ کربلا بے یار و مددگار اپنے پیاروں کو یاد کر رہے تھے۔ کربلا کے بعد یہ قافلہ مدینہ کی جانب روانہ ہوا اور بالآخر دو سو بائیس (222) دن کے طویل سفر کے بعد مدینہ منورہ پہنچا۔


یہ قافلہ جب مدینہ منورہ میں داخل ہوا ہوگا، تو کیا منظر رہا ہوگا؟ اپنے نانا، رسول اللہ صَلَّىٰ اللَّٰهُ عَلَيْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ کے روضہ مبارک پر پہنچ کر انہوں نے کیا کیا سنایا ہوگا؟ وہ دل دہلا دینے والی داستانیں، وہ لہو رلا دینے والے واقعات، جو انہوں نے کربلا سے شام تک کے سفر میں دیکھے اور سہے تھے۔ ذرا چشمِ تصور تو کیجیے!


بنی ہاشم کی لازوال قربانیاں: ایک منفرد داستان:


اسلام کی سربلندی کے لیے خاندانِ بنی ہاشم کی قربانیوں کا انداز واقعی نرالا اور بے مثال ہے۔


حضور اکرم صَلَّىٰ اللَّٰهُ عَلَيْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ کی ذاتِ مبارکہ کی پرورش کا عظیم فریضہ آپ کے بچپن سے لے کر اپنی وفات تک جناب حضرت ابوطالب علیہ السلام نے سرانجام دیا۔ یہ ان کی ہی پرعزم موجودگی تھی جس کے باعث کفارِ مکہ کو کبھی بھی آپ صَلَّىٰ اللَّٰهُ عَلَيْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ پر ظلم کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔ انہوں نے اپنے لختِ جگر حضرت علی علیہ السلام کو بھی بچپن سے ہی دینِ اسلام کے لیے وقف کر دیا تھا، یہی وجہ ہے کہ مولا علی علیہ السلام ہر میدان میں "اشداء علی الکفار" (کافروں پر سخت) ثابت ہوئے۔


مولا کائنات حضرت علی علیہ السلام کا مقام و مرتبہ خود آقا دوجہاں صَلَّىٰ اللَّٰهُ عَلَيْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ نے غدیرِ خم کے مقام پر سب پر عیاں کر دیا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اپنی بچپن سے لے کر شہادت تک اس امت کی کامیابی و کامرانی کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر پیش کی۔ آپ کی شہادت کے انیس (19) سال بعد بھی، میدانِ کربلا میں آپ نے اپنے چھے بیٹوں کی قربانی پیش کی۔


آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت حسن بن علی علیہ السلام نے اپنی شہادت کے دس سال بعد بھی اپنی طرف سے دو بیٹوں کی قربانی کربلا میں پیش کی۔ اور پھر، آپ کے لاڈلے بیٹے مولا حسین ابن علی علیہ السلام نے اپنے دو بیٹوں سمیت میدانِ کربلا میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ یہ سب قربانیاں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ بنی ہاشم نے اسلام کے لیے کس قدر عظیم اور بے مثال ایثار پیش کیا۔


امتحانِ الٰہی اور مشنِ حسینیؑ:


اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے: "اور ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے خوف، بھوک، پیاس، جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔" اس آیت میں اللہ تعالیٰ تمام انسانوں سے مخاطب ہو کر آزمائش کے طریقوں اور اس کے نتائج سے آگاہ فرما رہے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ ہر نیک شخص کو طرح طرح کے امتحانات سے گزرنا پڑا ہے۔ کسی کو بھوکا پیاسا رکھا گیا، کسی کو آگ میں کودنے کا حکم ملا، کسی کو اولاد کے ذریعے آزمایا گیا، کسی کو میوہ کھانے سے روک کر امتحان لیا گیا، اور کسی کو بیماری کے ذریعے آزمایا گیا۔


آج ہم ایک ایسی ہستی کے طریقِ امتحان کو بیان کرنے جا رہے ہیں جن کے لیے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ان کی ذاتِ اطہر پر بیک وقت خوف، بھوک، پیاس، اولاد، جان، اور پھلوں کے امتحان آئے۔ جب خوف کے امتحان میں کامیاب ہوئے تو انہیں "خلیل اللہ" کا خطاب ملا، اولاد کے امتحان میں کامیاب ہوئے تو انہیں "صابر" کہا گیا، اور جب نفس کے امتحان میں کامیاب ہوئے تو انہیں "ذبیح اللہ" کا خطاب ملا۔ تو آج میں اپنے حسینؑ کو کیا خطاب دوں جنہوں نے بیک وقت ہر طرح کے امتحانات پاس کیے۔ آج میں اپنے حسینؑ کو کیا خطاب دوں جنہوں نے اسلام کے احیاء و بقا کے لیے یزید جیسے لعنتی کی بیعت نہ کرتے ہوئے میدانِ کربلا میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپؑ اور آپؑ کے اصحابِ کرامؑ کو تین دن بھوکا پیاسا رہنا پڑا۔ شہرِ مدینہ کو چھوڑ کر حج کو عمرے میں بدل ڈالا۔ اولاد کی قربانی کے لیے اکبر و اصغرؑ کو ساتھ رکھا اور اصحابِ کرامؑ میں حبیبؑ جیسے بزرگوں کی قربانی دی۔ اور جب نفس کی ضرورت پڑی تو اسلام کی خاطر سب کچھ لٹا کر بارگاہِ ایزدی میں یوں دعا فرمائی: "یا اللہ! میری یہ ان بہتر نفوس کی قربانی کے صدقے اسلام کو تا قیامت زندہ رکھ!"


میں حضرت سید الشہداء اور ان کے اصحابِ کرامؑ کی کن کن خوبیوں اور صفات کا ذکر کروں اور کس کس کا نام لوں۔ بہتر جانثاروں کے سردار، میرے اور آپ کے آقا کے بارے میں اتنا ہی کہوں گا کہ میرے حسینؑ پر بیک وقت ایسے امتحانات آئے جو بڑے بڑے پیغمبروں پر بھی شاید نہ آئے ہوں۔ میرا سلام ہو حسینؑ اور اہل بیتِ حسینؑ پر۔ میرا سلام ہو یتیمان و اسیرانِ کربلا پر۔


حسینیؑ ہونے کا دعویٰ اور آج کی حقیقت:


تاہم، اس دور میں ہر کوئی حسینیؑ کا نعرہ تو بلند کرتا ہے لیکن مشنِ حسینیؑ کو آگے بڑھائے بغیر مقصد پورا نہیں ہوتا۔ آج ہم مشنِ حسینیؑ کو دبا کر مشنِ یزید کو آگے بڑھا رہے ہیں، پھر بھی ہم حسینی؟ حسینؑ نے تو دین کے لیے اپنی جان قربان کی اور آج ہم اپنی جان کے لیے ایمان بیچ رہے ہیں، پھر بھی ہم حسینی؟ تلاوتِ قرآن اور ذکرِ خدا کے لیے ہمارے پاس وقت ہی نہیں، پھر بھی ہم حسینی؟ نماز نہیں پڑھتے، روزہ نہیں رکھتے، زکوٰۃ نہیں دیتے، پھر بھی ہم حسینی؟ بد دیانتی، بدکاری، بے غیرتی، بے حیائی اور بے شرمی عام ہو، پھر بھی ہم حسینی؟ غریبوں سے نفرت، امیروں سے محبت کرتے ہیں، پھر بھی ہم حسینی؟ اصلاح کرنے کی ہمت نہیں، انصاف کے لیے وقت نہیں، فکر کرنے کے لیے فرصت نہیں، پھر بھی ہم حسینی؟


یہ کیسا حسینیؑ ہونا ہے؟ ہمیں اپنے دعوے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہمارا یہی حال رہا تو "شکلِ عاشق سے معشوق بیزار ہے" والی بات ہوگی۔ ہمیں اصل مشنِ حسینیؑ کو دنیا میں پھیلانے کی ضرورت ہے، اخلاق، آداب، غیرت، حمیت، جمعیت، تلاوت، معاشرت، اور سخاوت سیکھنے اور سکھانے کی ضرورت ہے۔


(ازقلم محمداعجازمصطفوی)


Date: 07-07-2025


Share:

Wednesday, May 22, 2019

Wednesday, April 24, 2019

How To Make Balti Dish (Prapo) || Khaplu Gilgit Baltistan || 2019

Share:

Wednesday, March 27, 2019

Imran Khan , Dr Shahid Masood , Hassan Nisar , Haroon Rashid || Want ...

Share:

Monday, April 2, 2018

Saturday, March 24, 2018

Dr Muhammad Hamidullah Library (IRI Library) on Pakistan Day 2018

Share:

Sunday, October 22, 2017

علم و عمل (قیصرمحمود صدیقی)


((علم وعمل لازم وملزوم ہے))
بےعمل دل ہوتوجذبات سے کیا ہوتا ہے
دھرتی بنجرہو توبرسات سے کیاہوتاہے
ہے عمل لازمی تکمیل تمنا کے لیے
ورنہ رنگین خیالات سے کیا ہوتا ہے
اسلام وعلیکم دوستو آج میں آپ دوست احباب کے سامنے چند ٹوٹی پھوٹی بات رکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ میری یہ تحریر بلخصوص نوجوان طالب علموں کے لیے ہے۔
علم و عمل لازم وملزوم ہیں،ان کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔علم کی کوکھ بھانج رہتی ہےجب تک عمل کا بیج نہ بویا جائے وہ بے فیض و بیکار ہے۔دوستو عمل کے بغیر علم بےروح جسم کے مانند ہے۔علم وعمل ایک ہی وجود کے دو ہاتھ،ایک ہی گاڑی کے دو پہے اور ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔یہ ممکن ہی نہیں سفر میں ایک پہیہ خراب ہوجاے اور گاڑی صحیح سلامت اپنی منزل تک پہنج جائے۔یقینان علم نہایت ضروری ہے۔آج انسانوں نےچاند پر قدم رکھا ہے،سمندر کے تہ تک پہنچا ہے،قسم قسم کے عقل دھنگ کرنےوالی ایجادات کیے ہیں تو اسی
Share:

Sunday, July 23, 2017

میرامرشد میرا تاج مرشداعظم الحاج فقیر محمد ابراہیمؒ (Mera Murshid Mera Taj)


بِسْمِ اللّٰہِ الرّٰحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۰

:میرے سر کا تاج میرےمرشد اعظم الحاج فقیر محمد ابراہیمؒ 

آپ کا مختصر تعارف یوں ہے۔
آپ ولی فطری اور مادرذات ولی اللہ تھے۔
سلسلہ ذھب میں تین سو چار سو سال بعد مرشد اعظم وغوث اعظم کے مقام پر پہنچنے والا۔
لوگوں کو قال قال سے نکال کر حال کی تعلیم دینے والا۔
بلتستان کو ولیوں  کا شہر بنانے والا۔
تصوف کو اپنی اصلی حالت میں دوبارہ زندہ کرنے والا
بزرگان دین سے براہ راست تعلیم حاصل کرنے والا۔
شریعت ، طریقت ، حقیقت ، معرفت اور سیاست میں قابل اور بے مثال علم رکھنے والا۔
اشداءعلی الکفار رحماءبینھم کا عملی مصداق۔
سخاوت میں بےنظیر و بے مثال اور شجاعت میں مرد مومن لاخوف والا۔
رموز طریقت کو کھول کھول کر بیان کرنے والا۔
بلتستان کی سرزمیں کا پہلا غوث اعظم و مرشد اعظم جو بلتستان میں پیدا ہوئے اور یہاں وفات پائے۔
بلتستان میں رہ کے سب کچھ سیکھا اور دوسرں کو سکھایا۔
ہزاروں کی تعداد میں شاگردوں کو طریقت میں اعلی مقام دلوانے والا۔
لوگوں کو ان کے منشاو خواہش کے مطابق دینے والا۔
طریقت کے تمام شاخوں اور رموز  کو دوبارہ زندہ کرکے مریدوں کو پہنچانے والا ۔

آپ کے مشہور القابات مندرجہ ذیل ہیں۔

امام انقلاب ، فخر تصوف ، مرشد اعظم ، ثانی شاہ ہمدان و ثانی شاہ سید ، منبع رشدو ہدایت اور غوث اعظم ۔

ان القابات پر مختصر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔

امام انقلاب کیسے ؟


امام انقلاب:

لوگ بگڑ چکے تھے معاشرے بدل گئے تھے۔ظلم کی انتہا اور غریب کی روٹی چھینا جارہا تھا۔نماز، روزہ ، دین و ملت کی باتیں ختم ہوچکے تھیں۔گالی گلوچ اور ڈانس معاشرے کا حصہ بن چکے تھے۔
برائی سر عام کرتے تھے۔نیکی کی طرف بلانے والوں کا مذاق اڑایا جارہا تھا ۔دین کی باتیں کرنا عیب سمجھی جاتی تھی ۔ ایسے میں ایک مرد مومن کود پڑھتے ہیں۔شروع شروع میں 12پھر18اس طرح درجنوں سے سینکڑوں اور سینکڑوں سے ہزاروں مریدین کو لیکر اسلام کی باتیں کرتے ہیں اوردیکھا ہ دیکھی  سیاچن سے لیکر ساحل سمندر تک اسلام کی حقیقی پیغامات دنیا کو پہنچاتے ہیں۔
بے نمازی کو نمازی ، لاپرواہی کو احساس ذمہ داری ،گناہ گاروں کو توابین ، محبت نفس کو محبت دین ، خاندانی رسم و رواج کو اسلامی رسم و رواج ، اندھیرے کو روشنی ، خود غرض کو نفس شکن ، بد خواہ کو خیر خواہ بناتے ہیں۔
جو لوگ تین وقت کی نماز نہیں پڑھتے تھے ۔آپؒ نے انہیں اعتکاف کے چلہ خانوں اور مسجد و محراب کے قابل بنائے۔
امام انقلاب نے مجدد دین کا فریضہ سر انجام دیتے ہوئے صوفیہ نوربخشیہ سے غیر نوربخشی عقائد کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قلع قمع کیا۔
جو لوگ ایک دفعہ بھی توبہ کرنے سے ڈرتے تھے آپ نے انہیں توابین میں شامل کرایا۔جو لوگ ایک گھنٹہ کیلئے باوضو نہیں رہتے تھے ۔آپ نے انہیں متطہرین میں شامل کرایا ۔جولوگ عربی پڑھنا ہی نہیں جانتے تھے۔آپ نے انہیں علماء و آئمہ بنائے۔
جنہیں فقہ پڑھنا نہیں آتا تھا انہیں فقہ کا استاد بنایا گیا۔
آج آپ کے مریدین میں کوئی ایسا بندہ نہیں جسے دوام وضو، دوام توبہ، دوام ذکر پر عمل پیر انہ ہو ۔اور ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ ان کے ہاتھ یا جیب میں تسبیح نہ ہو۔
اس نفس پرست اور ٹیکنالوجی کے دور میں ایمان کو بچانا انتھائی دشوارکام ہے لیکن آج ہم سب گلو کا ر ڈانسر بننے کے بجائے اللہ کے دین کے سپاہی بنتے ہیں۔یہ سب میرے اور آپکا کمال نہیں بلکہ امام انقلاب کی تربیت کا نتیجہ ہے اور محنت ومشقت کا ثمر ہے۔

فخر تصوف:

حقیقی تصوف کے تعلیمات دنیا سے مٹ چکے تھے ۔غلط تعویز دینا اور لوگوں کو راہ راست سے ہٹانا ان کا مشن بن چکا تھا ۔
تصوف صرف زبانی حدتک محدود ہوگئی تھی ۔عملی تصوف کا پرچار کرنے والا کوئی نہ تھا۔تصوف کے تعلیمات کوپھیلانے کے بجائے دبانے کی کوشش اپنی آخری حدوں کو چھورہی تھی ۔تصوف کابنیادی مقصد لوگوں کو اللہ سے ملانا ہے۔اس لئے بنیادی چیز دوام وضو لوگوں کے دلوں سے مٹ چکے تھے۔عوام تو عوام علماء کو بھی دوام وضو کاکچھ پتہ نہیں تھے۔ایسے میں آپؒ نے دوام وضو ، دوام ذکر اور دوام توبہ کا نعرہ بلند کیا۔اور اسکے ذریعے لوگوں کو اپنے مالک حقیقی سے محبت کرنے کا طریقہ سکھایا آج الحمد اللہ یہ نعرہ صوفیہ نوربخشیہ کا ہر فرد بشر کا نعرہ بن چکا ہے۔ اور اسے اپنا نصب العین بنایا ہوا ہے۔
 میرے اور آپ کے مرشد اٹھتے ہیں۔
تصوف کے حقیقی تعلیمات سے لوگوں کو آگاہ کرتے ہیں۔تصوف کے آداب و رموز سے دنیا کو چیلنچ کرکے فرماتے ہیں 
اگر کسی کے پاس اس سے اچھا تصوف ہے تو پیش کرو ورنہ اسے قبول کرو 
آپ نے یہ چیلنچ گیارہ بڑے بڑے اجتماعات میں کئے۔400 ،500سے چلے آئے ہوئے سری سلسلے کو آپ نے مکمل جہری بنایا۔کیونکہ سری میں صرف چند مخصوص لوگوں کی تربیت کیجاتی تھی۔اس لئے آپ نے سری کو جہری میں لاکر ہم سب کے اوپر بہت بڑا احسان کیاہے۔یہ کام کوئی آسان کام نہ تھا۔
تصوف کی عملی تفسیر بن کر دنیائے اسلام کو دین کی خاطر محبت اور دین کی خاطر نفرت کا درس دیاْ۔
مرشد کے بارے میں فقہ میں ارشاد ہے۔
جہا د اکبر کے امام کی شرائط بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
....،،جو ولایت کے مقامات میں کمال در جے پر فائز ہو احوال کشف والا ہو مشاہدہ اور احوال معانیہ وغیرہ والا ہو۔
وہ عالم لاہوت میں فنا ہونے والا عالم جبروت میں باقی رہنے والا ہو۔پکا موحد ہو
روحانی راہو ں پر چلنے والوں کو صحیح خدمت ، عزلت صحیح صحبت وغیرہ کے ذریعے کمال کو پہنچانے والا ہو شریعت میں مجتہد ہو طریقت میں مجاہدہو ۔
آپ ان تمام مقامات پر پہنچے ہوئے تھے۔اسلیے آپ کے بارےمیں شاعرنے کیا خوف کہاہے
ہے رسائی تیری آج لاہوت میں
تو بقا اور باقی ہے جبروت میں
تیری پرواز بھی ہے تو ملکوت میں
عرشی کرسی نظارہ بیاکھن بادشاہ 
کبھی لاہوت کبھی ملکوت  کبھی جبروت مقام ان کا 
عجب عالم میں ہے اقامت مرشد کامل
ہمیں اب بھی مرشد کو پہنچاننے کی ضرورت ہے۔ مرشد کامل کمال درجے کی ہو تو مرید کو بھی درجہ کمال پر پہنچاتے ہیں۔
میرے اور آپ کے مرشد میں کسی چیز کی کمی نہیں ۔ 
شجاعت میں مرد مومن، اندازمیں  فکر فقیری ، عبادت میں عابد ۔ ذکر کرنے میں ذاہد سخاوت کا بادشاہ طریقت کا پیشوا مریدوں کی بصیرت و بصارت ،ولایت و روحانیت میں غوث اعظم کا مقام پاے والا سماجی خدمات میں سب سے آگے ،سالکین راہ خدا کو تربیت کرنے کا منفرد انداز ،طبیب روحانی و جسمانی اخلاص و مروت کا پیکر ہمت و بہادری میں بے مثال، دین سے محبت کرنے والوں کا ساتھ انتہائی محبت و کرم کرنے والا اور دین سے نفرت کرنے والوں کیلئے خوف کا نشان۔

ثانی شاہ سید :

غوث المتاخرین شاہ سید ؒ نے فقہ لکھتے ہوئے بیان فرمایا ۔
یہ کتاب تمام عالم اسلام کیلئے لکھ رہاہوں۔اسکا مطلب یہ ہوا کہ اس کتاب پر کوئی بھی عمل کرسکتے ہیں اور کراسکتے ہیں عمل کرانے والوں کی خصوصیات بھی کتا ب کے اندر پیش کئے  ہیں۔
لیکن بد قسمتی سے حضرت شمس الدین عراقی بت شکنؒ کے بعد کوئی ایسا ولی مرشد نہیں آیا جس نے خود عمل کیا ہو اور دوسروں کو عمل کرایا ہو۔

سال کے بعد فقیر محمدا براہیمؒ ثانی شا ہ سید کی شکل میں ہمارے500، 400
لئے درمیان تشریف لاتے ہیں اور فقہ پر عمل کروانا شروع کرتے ہیں
فقہ سے پیچیدہ پیچیدہ مسائل آپ آسان الفاظ میں بیان کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں 
جو پوچھنا ہے پوچھ لو
شاہ سیدمحمد نوربخش ؒ نے زمانہ رسولؐ و شریعت محمد رسول ؐ پیش کرکے امت مصطفیؐ پر بہت بڑا احسان کیا ۔
مثل شاہ سید و ثانی شاہ سید نے فقہ احوط پر عمل کرکے اور دوسروں کو عمل کرواکے ایک دفعہ پھر زمانہ رسولؐ کو زندہ کیا
اسطرح آپ نے لوگوں کے دلوں کو زندہ کیا اور ان کے دلوں میں محبت خدا و رسول ﷺ اجاگر کیا۔
شاہ سید نے پانچ سال کی عمر میں قرآن پاک مکمل کیا اور بارہ سال کی عمر میں علماٗء کی صف میں شامل ہوئے اور سترہ سال کی عمر میں کشف الحقائق لکھتے ہیں اور حق و باطل کی لکیر کھینچتے ہیں۔
اسطرح میرے مرشد چھ سال کی عمر میں اعتکاف میں بیٹھتے ہیں۔۔
چودہ سال کی عمر میں طریقت کے تمام رموز او ر مقامات طے کرتے ہیں۔

ثانی شاہ ہمدان :

امیر کبیر سیدعلی ہمدانیؒ المعروف شاہ ہمدان ؒ نے جس ہدایت کا مشن شروع کیا تھا۔وہ رفتہ رفتہ سست ہوتاگیا اور آخر کارنوبت یہاں تک پہنچی کہ امیر کبیر ؒ کی تعلیمات کودنیاتک  پہنچانے والےدین کے ٹھیکیداربن کر غیروں کے ایجنٹ بن گئے۔۔
کالی بھیڑ   بن کر اور نوربخشی رہبر کا لباس پہن کر عوام الناس کو یک لخت غیر نوربخشی بنادئے۔۔
دوسروں کو ہدایت دینا اور راہ راست پرلانا دو ر کی بات خود دوسروں کے پاس چلے گیے۔ایسے میں ثانی شاہ ہمدان الحاج فقیر محمد ابراہیمؒ اٹھا اور ہدایت کامشن لیکر گاؤں گاؤں گلی گلی اور گھر گھر گئے اور لوگوں کو اپنا کھویا ہوا مقام یاد دلایا۔
ہادی   بن کر لوگوں کو ہدایت دینا شروع کیا عوام الناس کو ہدایت کرنے کیلئے سری سے جہری میں انا پڑا اس کیلئے آپ نے کافی مشقیں اٹھائی ۔
شاہ ہمدان نے کشمیر کو ولیوں کا شہر بنایا میرے اور آپ کے مرشد نے بلتستان کو ولیوں کا گلستان بنادیا۔
آپکے بدولت اس وقت بلتستان میں سینکڑوں کی تعداد میں اولیاء اللہ ہم سب کے سامنے ہیں۔۔
عملیات شاہ ہمدان پر عمل کیا اورپور ی ملت کو عمل کروایا۔۔
شاہ ہمدان کے ہدایت کے مشن کو زندہ رکھنے کیلئے آپ نے بڑے بڑے ہستیاں پیدا کئے۔
لوگوں کو ہدایت کیلئے خصوصی دعائیں اور عبادت کرتے رہئے۔

منبع رشد و ہدایت:

جو بھی اس رشدو ہدایت کے چشمہ سے ایک قطرہ پانی پینے میں کامیاب ہوا اسے ہدایت مل گئی۔
آپکی صحبت میں ایک دفعہ حاضری بھی ہدایت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔کسی نے آپ کے چہرے کو دیکھ کر ہدایت پایا تو کسی نے مسلہ مسائل پوچھنے کے بعد ہدایت پایا۔۔
جس نے آپ کے گھر قدم رکھا وہ آپکا عاشق ہو ئے بغیر نہ رہ سکا۔۔
ملک کے بڑے بڑے علماء سے لیکر سیاستدان ہر کوئی آپ کے انداز ہدایت سے متاثر ہوئے۔
ہمیں اکثر یہ پڑھنے کو ملتے تھےفلاں ولی کو ایک دفعہ دیکھتے ہی کسی بندہ کی تقدیر بدل گئی ۔۔
فلاں ولی کسی گاؤں میں داخل ہوئے تو وہ سب ہدایت یافتہ ہو گئے ۔۔فلاں ولی نے کسی پر نظر کرم ڈالی تو وہ ولی بن گئے۔۔۔۔۔
عزیزو آج ہم یہ سب چیزیں اپنے نظر و ں سے دیکھ رہے ہیں۔
جب اس رشد و ہدایت کے چشمہ میں مکمل سیراب ہوتے ہیں ۔تو کوئی رئیس المعتکفین بنتے ہیں تو کوئی پیران طریقت تو کوئی پیر طریقت اور کوئی شیخ طریقت کے منصب پر فائز ہوتے ہیں۔۔

غوث اعظم:

کسی مرید کے پکار پر پہنچنے والا غوث کہلاتا ہے۔
ٓآپؒ غوث اعظم کے درجے پر فائز تھے۔آپ ؒ نوربخشی عقائد کو بیان کرتے ہوے فرماتے رہتے تھے کہ ہمارے عقید ے کے تحت غوث المتاخرین نہیں بن سکتا باقی سب کچھ بن سکتا ہے ۔ اس موضوع پر بہت زیادہ واقعات موجود ہیں ۔لیکن وقت کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھنے سے احتراز کرتا ہوں۔

وفات:



 کل نفس ذائقہ الموت کے فرما ن کے مطابق آپ نے بھی ایک نہ ایک دن اس دارفانی سے جاناتھا۔

اور یوں 21 اگست2016 کو اس دار فانی سے رحلت فرماگئے۔

اے میرے صوفیہ نوربخشیہ کے جوانوں ،بزرگوں! ہم اس وقت عجیب امتحان اور مراحل سے گزر رہے ہیں یہ امتحان بہت جلد ختم ہوجائیگا ۔۔

لہذا امتحان کی کڑی وقت میں اولیاء کرام کا دامن نہ چھوڑے اور ان سے محبت نہ سہی تو نفرت نہ کرے ۔


(شکریہ)
مرید مرشد: محمد اعجاز مصطفوی 
خپلوکھانسر مرشد ٹاون۔
تاریخ:20جولائی2017


03406004321
Share:
Copyright © Muhammad Ejaz Mustafavi | Powered by Blogger
Design by SimpleWpThemes | Blogger Theme by NewBloggerThemes.com