-
-
-
My University
International Islamic University Islamabad Pakistan
Wednesday, May 22, 2019
Wednesday, April 24, 2019
Wednesday, March 27, 2019
Monday, April 2, 2018
Saturday, March 24, 2018
Sunday, October 22, 2017
علم و عمل (قیصرمحمود صدیقی)
((علم وعمل لازم وملزوم ہے))
بےعمل دل ہوتوجذبات سے کیا ہوتا ہے
دھرتی بنجرہو توبرسات سے کیاہوتاہے
دھرتی بنجرہو توبرسات سے کیاہوتاہے
اسلام وعلیکم دوستو آج میں آپ دوست احباب کے سامنے چند ٹوٹی پھوٹی بات رکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ میری یہ تحریر بلخصوص نوجوان طالب علموں کے لیے ہے۔
علم و عمل لازم وملزوم ہیں،ان کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔علم کی کوکھ بھانج رہتی ہےجب تک عمل کا بیج نہ بویا جائے وہ بے فیض و بیکار ہے۔دوستو عمل کے بغیر علم بےروح جسم کے مانند ہے۔علم وعمل ایک ہی وجود کے دو ہاتھ،ایک ہی گاڑی کے دو پہے اور ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔یہ ممکن ہی نہیں سفر میں ایک پہیہ خراب ہوجاے اور گاڑی صحیح سلامت اپنی منزل تک پہنج جائے۔یقینان علم نہایت ضروری ہے۔آج انسانوں نےچاند پر قدم رکھا ہے،سمندر کے تہ تک پہنچا ہے،قسم قسم کے عقل دھنگ کرنےوالی ایجادات کیے ہیں تو اسی
علم و عمل لازم وملزوم ہیں،ان کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔علم کی کوکھ بھانج رہتی ہےجب تک عمل کا بیج نہ بویا جائے وہ بے فیض و بیکار ہے۔دوستو عمل کے بغیر علم بےروح جسم کے مانند ہے۔علم وعمل ایک ہی وجود کے دو ہاتھ،ایک ہی گاڑی کے دو پہے اور ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔یہ ممکن ہی نہیں سفر میں ایک پہیہ خراب ہوجاے اور گاڑی صحیح سلامت اپنی منزل تک پہنج جائے۔یقینان علم نہایت ضروری ہے۔آج انسانوں نےچاند پر قدم رکھا ہے،سمندر کے تہ تک پہنچا ہے،قسم قسم کے عقل دھنگ کرنےوالی ایجادات کیے ہیں تو اسی
Sunday, July 23, 2017
میرامرشد میرا تاج مرشداعظم الحاج فقیر محمد ابراہیمؒ (Mera Murshid Mera Taj)
بِسْمِ اللّٰہِ الرّٰحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۰
:میرے سر کا تاج میرےمرشد اعظم الحاج فقیر محمد ابراہیمؒ
آپ کا مختصر تعارف یوں ہے۔
آپ ولی فطری اور مادرذات ولی اللہ تھے۔
سلسلہ ذھب میں تین سو چار سو سال بعد مرشد اعظم وغوث اعظم کے مقام پر پہنچنے والا۔
لوگوں کو قال قال سے نکال کر حال کی تعلیم دینے والا۔
بلتستان کو ولیوں کا شہر بنانے والا۔
تصوف کو اپنی اصلی حالت میں دوبارہ زندہ کرنے والا
بزرگان دین سے براہ راست تعلیم حاصل کرنے والا۔
شریعت ، طریقت ، حقیقت ، معرفت اور سیاست میں قابل اور بے مثال علم رکھنے والا۔
اشداءعلی الکفار رحماءبینھم کا عملی مصداق۔
سخاوت میں بےنظیر و بے مثال اور شجاعت میں مرد مومن لاخوف والا۔
رموز طریقت کو کھول کھول کر بیان کرنے والا۔
بلتستان کی سرزمیں کا پہلا غوث اعظم و مرشد اعظم جو بلتستان میں پیدا ہوئے اور یہاں وفات پائے۔
بلتستان میں رہ کے سب کچھ سیکھا اور دوسرں کو سکھایا۔
ہزاروں کی تعداد میں شاگردوں کو طریقت میں اعلی مقام دلوانے والا۔
لوگوں کو ان کے منشاو خواہش کے مطابق دینے والا۔
طریقت کے تمام شاخوں اور رموز کو دوبارہ زندہ کرکے مریدوں کو پہنچانے والا ۔
آپ کے مشہور القابات مندرجہ ذیل ہیں۔
امام انقلاب ، فخر تصوف ، مرشد اعظم ، ثانی شاہ ہمدان و ثانی شاہ سید ، منبع رشدو ہدایت اور غوث اعظم ۔
ان القابات پر مختصر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔
امام انقلاب کیسے ؟
امام انقلاب:
لوگ بگڑ چکے تھے معاشرے بدل گئے تھے۔ظلم کی انتہا اور غریب کی روٹی چھینا جارہا تھا۔نماز، روزہ ، دین و ملت کی باتیں ختم ہوچکے تھیں۔گالی گلوچ اور ڈانس معاشرے کا حصہ بن چکے تھے۔
برائی سر عام کرتے تھے۔نیکی کی طرف بلانے والوں کا مذاق اڑایا جارہا تھا ۔دین کی باتیں کرنا عیب سمجھی جاتی تھی ۔ ایسے میں ایک مرد مومن کود پڑھتے ہیں۔شروع شروع میں 12پھر18اس طرح درجنوں سے سینکڑوں اور سینکڑوں سے ہزاروں مریدین کو لیکر اسلام کی باتیں کرتے ہیں اوردیکھا ہ دیکھی سیاچن سے لیکر ساحل سمندر تک اسلام کی حقیقی پیغامات دنیا کو پہنچاتے ہیں۔
بے نمازی کو نمازی ، لاپرواہی کو احساس ذمہ داری ،گناہ گاروں کو توابین ، محبت نفس کو محبت دین ، خاندانی رسم و رواج کو اسلامی رسم و رواج ، اندھیرے کو روشنی ، خود غرض کو نفس شکن ، بد خواہ کو خیر خواہ بناتے ہیں۔
جو لوگ تین وقت کی نماز نہیں پڑھتے تھے ۔آپؒ نے انہیں اعتکاف کے چلہ خانوں اور مسجد و محراب کے قابل بنائے۔
امام انقلاب نے مجدد دین کا فریضہ سر انجام دیتے ہوئے صوفیہ نوربخشیہ سے غیر نوربخشی عقائد کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قلع قمع کیا۔
جو لوگ ایک دفعہ بھی توبہ کرنے سے ڈرتے تھے آپ نے انہیں توابین میں شامل کرایا۔جو لوگ ایک گھنٹہ کیلئے باوضو نہیں رہتے تھے ۔آپ نے انہیں متطہرین میں شامل کرایا ۔جولوگ عربی پڑھنا ہی نہیں جانتے تھے۔آپ نے انہیں علماء و آئمہ بنائے۔
جنہیں فقہ پڑھنا نہیں آتا تھا انہیں فقہ کا استاد بنایا گیا۔
آج آپ کے مریدین میں کوئی ایسا بندہ نہیں جسے دوام وضو، دوام توبہ، دوام ذکر پر عمل پیر انہ ہو ۔اور ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ ان کے ہاتھ یا جیب میں تسبیح نہ ہو۔
اس نفس پرست اور ٹیکنالوجی کے دور میں ایمان کو بچانا انتھائی دشوارکام ہے لیکن آج ہم سب گلو کا ر ڈانسر بننے کے بجائے اللہ کے دین کے سپاہی بنتے ہیں۔یہ سب میرے اور آپکا کمال نہیں بلکہ امام انقلاب کی تربیت کا نتیجہ ہے اور محنت ومشقت کا ثمر ہے۔
فخر تصوف:
حقیقی تصوف کے تعلیمات دنیا سے مٹ چکے تھے ۔غلط تعویز دینا اور لوگوں کو راہ راست سے ہٹانا ان کا مشن بن چکا تھا ۔
تصوف صرف زبانی حدتک محدود ہوگئی تھی ۔عملی تصوف کا پرچار کرنے والا کوئی نہ تھا۔تصوف کے تعلیمات کوپھیلانے کے بجائے دبانے کی کوشش اپنی آخری حدوں کو چھورہی تھی ۔تصوف کابنیادی مقصد لوگوں کو اللہ سے ملانا ہے۔اس لئے بنیادی چیز دوام وضو لوگوں کے دلوں سے مٹ چکے تھے۔عوام تو عوام علماء کو بھی دوام وضو کاکچھ پتہ نہیں تھے۔ایسے میں آپؒ نے دوام وضو ، دوام ذکر اور دوام توبہ کا نعرہ بلند کیا۔اور اسکے ذریعے لوگوں کو اپنے مالک حقیقی سے محبت کرنے کا طریقہ سکھایا آج الحمد اللہ یہ نعرہ صوفیہ نوربخشیہ کا ہر فرد بشر کا نعرہ بن چکا ہے۔ اور اسے اپنا نصب العین بنایا ہوا ہے۔
میرے اور آپ کے مرشد اٹھتے ہیں۔
میرے اور آپ کے مرشد اٹھتے ہیں۔
تصوف کے حقیقی تعلیمات سے لوگوں کو آگاہ کرتے ہیں۔تصوف کے آداب و رموز سے دنیا کو چیلنچ کرکے فرماتے ہیں
اگر کسی کے پاس اس سے اچھا تصوف ہے تو پیش کرو ورنہ اسے قبول کرو
آپ نے یہ چیلنچ گیارہ بڑے بڑے اجتماعات میں کئے۔400 ،500سے چلے آئے ہوئے سری سلسلے کو آپ نے مکمل جہری بنایا۔کیونکہ سری میں صرف چند مخصوص لوگوں کی تربیت کیجاتی تھی۔اس لئے آپ نے سری کو جہری میں لاکر ہم سب کے اوپر بہت بڑا احسان کیاہے۔یہ کام کوئی آسان کام نہ تھا۔
تصوف کی عملی تفسیر بن کر دنیائے اسلام کو دین کی خاطر محبت اور دین کی خاطر نفرت کا درس دیاْ۔
مرشد کے بارے میں فقہ میں ارشاد ہے۔
جہا د اکبر کے امام کی شرائط بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔
....،،جو ولایت کے مقامات میں کمال در جے پر فائز ہو احوال کشف والا ہو مشاہدہ اور احوال معانیہ وغیرہ والا ہو۔
وہ عالم لاہوت میں فنا ہونے والا عالم جبروت میں باقی رہنے والا ہو۔پکا موحد ہو
روحانی راہو ں پر چلنے والوں کو صحیح خدمت ، عزلت صحیح صحبت وغیرہ کے ذریعے کمال کو پہنچانے والا ہو شریعت میں مجتہد ہو طریقت میں مجاہدہو ۔
آپ ان تمام مقامات پر پہنچے ہوئے تھے۔اسلیے آپ کے بارےمیں شاعرنے کیا خوف کہاہے
آپ ان تمام مقامات پر پہنچے ہوئے تھے۔اسلیے آپ کے بارےمیں شاعرنے کیا خوف کہاہے
ہے رسائی تیری آج لاہوت میں
تو بقا اور باقی ہے جبروت میں
تیری پرواز بھی ہے تو ملکوت میں
عرشی کرسی نظارہ بیاکھن بادشاہ
کبھی لاہوت کبھی ملکوت کبھی جبروت مقام ان کا
کبھی لاہوت کبھی ملکوت کبھی جبروت مقام ان کا
عجب عالم میں ہے اقامت مرشد کامل
ہمیں اب بھی مرشد کو پہنچاننے کی ضرورت ہے۔ مرشد کامل کمال درجے کی ہو تو مرید کو بھی درجہ کمال پر پہنچاتے ہیں۔
میرے اور آپ کے مرشد میں کسی چیز کی کمی نہیں ۔
شجاعت میں مرد مومن، اندازمیں فکر فقیری ، عبادت میں عابد ۔ ذکر کرنے میں ذاہد سخاوت کا بادشاہ طریقت کا پیشوا مریدوں کی بصیرت و بصارت ،ولایت و روحانیت میں غوث اعظم کا مقام پاے والا سماجی خدمات میں سب سے آگے ،سالکین راہ خدا کو تربیت کرنے کا منفرد انداز ،طبیب روحانی و جسمانی اخلاص و مروت کا پیکر ہمت و بہادری میں بے مثال، دین سے محبت کرنے والوں کا ساتھ انتہائی محبت و کرم کرنے والا اور دین سے نفرت کرنے والوں کیلئے خوف کا نشان۔
ثانی شاہ سید :
غوث المتاخرین شاہ سید ؒ نے فقہ لکھتے ہوئے بیان فرمایا ۔
یہ کتاب تمام عالم اسلام کیلئے لکھ رہاہوں۔اسکا مطلب یہ ہوا کہ اس کتاب پر کوئی بھی عمل کرسکتے ہیں اور کراسکتے ہیں عمل کرانے والوں کی خصوصیات بھی کتا ب کے اندر پیش کئے ہیں۔
لیکن بد قسمتی سے حضرت شمس الدین عراقی بت شکنؒ کے بعد کوئی ایسا ولی مرشد نہیں آیا جس نے خود عمل کیا ہو اور دوسروں کو عمل کرایا ہو۔
سال کے بعد فقیر محمدا براہیمؒ ثانی شا ہ سید کی شکل میں ہمارے500، 400
لئے درمیان تشریف لاتے ہیں اور فقہ پر عمل کروانا شروع کرتے ہیں
فقہ سے پیچیدہ پیچیدہ مسائل آپ آسان الفاظ میں بیان کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں
جو پوچھنا ہے پوچھ لو
شاہ سیدمحمد نوربخش ؒ نے زمانہ رسولؐ و شریعت محمد رسول ؐ پیش کرکے امت مصطفیؐ پر بہت بڑا احسان کیا ۔
مثل شاہ سید و ثانی شاہ سید نے فقہ احوط پر عمل کرکے اور دوسروں کو عمل کرواکے ایک دفعہ پھر زمانہ رسولؐ کو زندہ کیا
اسطرح آپ نے لوگوں کے دلوں کو زندہ کیا اور ان کے دلوں میں محبت خدا و رسول ﷺ اجاگر کیا۔
شاہ سید نے پانچ سال کی عمر میں قرآن پاک مکمل کیا اور بارہ سال کی عمر میں علماٗء کی صف میں شامل ہوئے اور سترہ سال کی عمر میں کشف الحقائق لکھتے ہیں اور حق و باطل کی لکیر کھینچتے ہیں۔
اسطرح میرے مرشد چھ سال کی عمر میں اعتکاف میں بیٹھتے ہیں۔۔
چودہ سال کی عمر میں طریقت کے تمام رموز او ر مقامات طے کرتے ہیں۔
ثانی شاہ ہمدان :
امیر کبیر سیدعلی ہمدانیؒ المعروف شاہ ہمدان ؒ نے جس ہدایت کا مشن شروع کیا تھا۔وہ رفتہ رفتہ سست ہوتاگیا اور آخر کارنوبت یہاں تک پہنچی کہ امیر کبیر ؒ کی تعلیمات کودنیاتک پہنچانے والےدین کے ٹھیکیداربن کر غیروں کے ایجنٹ بن گئے۔۔
کالی بھیڑ بن کر اور نوربخشی رہبر کا لباس پہن کر عوام الناس کو یک لخت غیر نوربخشی بنادئے۔۔
دوسروں کو ہدایت دینا اور راہ راست پرلانا دو ر کی بات خود دوسروں کے پاس چلے گیے۔ایسے میں ثانی شاہ ہمدان الحاج فقیر محمد ابراہیمؒ اٹھا اور ہدایت کامشن لیکر گاؤں گاؤں گلی گلی اور گھر گھر گئے اور لوگوں کو اپنا کھویا ہوا مقام یاد دلایا۔
ہادی بن کر لوگوں کو ہدایت دینا شروع کیا عوام الناس کو ہدایت کرنے کیلئے سری سے جہری میں انا پڑا اس کیلئے آپ نے کافی مشقیں اٹھائی ۔
شاہ ہمدان نے کشمیر کو ولیوں کا شہر بنایا میرے اور آپ کے مرشد نے بلتستان کو ولیوں کا گلستان بنادیا۔
آپکے بدولت اس وقت بلتستان میں سینکڑوں کی تعداد میں اولیاء اللہ ہم سب کے سامنے ہیں۔۔
عملیات شاہ ہمدان پر عمل کیا اورپور ی ملت کو عمل کروایا۔۔
شاہ ہمدان کے ہدایت کے مشن کو زندہ رکھنے کیلئے آپ نے بڑے بڑے ہستیاں پیدا کئے۔
لوگوں کو ہدایت کیلئے خصوصی دعائیں اور عبادت کرتے رہئے۔
منبع رشد و ہدایت:
جو بھی اس رشدو ہدایت کے چشمہ سے ایک قطرہ پانی پینے میں کامیاب ہوا اسے ہدایت مل گئی۔
آپکی صحبت میں ایک دفعہ حاضری بھی ہدایت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔کسی نے آپ کے چہرے کو دیکھ کر ہدایت پایا تو کسی نے مسلہ مسائل پوچھنے کے بعد ہدایت پایا۔۔
جس نے آپ کے گھر قدم رکھا وہ آپکا عاشق ہو ئے بغیر نہ رہ سکا۔۔
ملک کے بڑے بڑے علماء سے لیکر سیاستدان ہر کوئی آپ کے انداز ہدایت سے متاثر ہوئے۔
ہمیں اکثر یہ پڑھنے کو ملتے تھےفلاں ولی کو ایک دفعہ دیکھتے ہی کسی بندہ کی تقدیر بدل گئی ۔۔
فلاں ولی کسی گاؤں میں داخل ہوئے تو وہ سب ہدایت یافتہ ہو گئے ۔۔فلاں ولی نے کسی پر نظر کرم ڈالی تو وہ ولی بن گئے۔۔۔۔۔
عزیزو آج ہم یہ سب چیزیں اپنے نظر و ں سے دیکھ رہے ہیں۔
جب اس رشد و ہدایت کے چشمہ میں مکمل سیراب ہوتے ہیں ۔تو کوئی رئیس المعتکفین بنتے ہیں تو کوئی پیران طریقت تو کوئی پیر طریقت اور کوئی شیخ طریقت کے منصب پر فائز ہوتے ہیں۔۔
غوث اعظم:
کسی مرید کے پکار پر پہنچنے والا غوث کہلاتا ہے۔
ٓآپؒ غوث اعظم کے درجے پر فائز تھے۔آپ ؒ نوربخشی عقائد کو بیان کرتے ہوے فرماتے رہتے تھے کہ ہمارے عقید ے کے تحت غوث المتاخرین نہیں بن سکتا باقی سب کچھ بن سکتا ہے ۔ اس موضوع پر بہت زیادہ واقعات موجود ہیں ۔لیکن وقت کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھنے سے احتراز کرتا ہوں۔
وفات:
کل نفس ذائقہ الموت کے فرما ن کے مطابق آپ نے بھی ایک نہ ایک دن اس دارفانی سے جاناتھا۔
اور یوں 21 اگست2016 کو اس دار فانی سے رحلت فرماگئے۔
اے میرے صوفیہ نوربخشیہ کے جوانوں ،بزرگوں! ہم اس وقت عجیب امتحان اور مراحل سے گزر رہے ہیں یہ امتحان بہت جلد ختم ہوجائیگا ۔۔
لہذا امتحان کی کڑی وقت میں اولیاء کرام کا دامن نہ چھوڑے اور ان سے محبت نہ سہی تو نفرت نہ کرے ۔
(شکریہ)
مرید مرشد: محمد اعجاز مصطفوی
خپلوکھانسر مرشد ٹاون۔
تاریخ:20جولائی2017
03406004321
Saturday, January 7, 2017
نبی اکرمﷺ کامل معلم و مربی
نبی اکرمﷺ کامل معلم و مربی
محمدﷺ کی غلامی دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے
وہ دانا ئےسبل ختم الرسل مولاے کل جس نے
غبار ے راہ کوبغشا فروغ وادے سینا
آج ہم اس ہستی معزز و مکرم بحیثیت معلم و مربی بیان کرنے
کی کوشش کر رہے ہیں جو اللہ کے رسول، پیارے، دوست، برگزیدہ، افضل مخلوق، پسندیدہ،
مرسل اور مرسلیں کے سردار، پرہیزگاروں کے امام، خاتم الانبیا، گنہگاروں کے سفارشی،
تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر ہمارے دل و نگاہ کی تسکیں کے لیے اس عالم ناسود میں
تشریف لے آئے۔
اس بابرکت ذاب پاک کا جتنا بھی شکر ادا کرو کم ہے کیونکہ اس
نے ہمارے لئے اپنے اس ہستی اعلیٰ کو ہمارے لئے معلم مربی بنا کر بھیجا جس کے لئے
زمیں و آسمان بنائے گئے۔جس کے سامنے نباتات، جمادات اور حیوانات سجدہ ریز ہے۔ وہ
ہستی مکرم بادشوں کا بادشاہ، غریبوں کا ہمنوا، مسکینوں کے لئے ساتھی ، اپنوں کے لئے
نعمت، غیروں کے لئے رحمت، نور سے زیادہ روشن، علم سے زیادہ عالم، فن سے زیادہ
ماہر، بچوں کے لئے شفقت، بڑوں کے لئے مہربانی، جوانوں کے لئے ہمسفر ساتھی،
انسانوں کے لئے انسانیت کا مجسمہ، اخلاق میں خلق عظیم، سید کون و مکان حضرت محمد
مصطفیٰﷺ ہے۔
آپ ﷺ کی ذات معلم اعظم ہے اور اسی پر آپ فخر کرتے ہوئے
فرماتے ہیں انما انا بعثت معلما یعنی مجھے معلم اعظم بنا کر بھیجا ہے۔
Monday, November 28, 2016
میں تاریخ کو کیوں مانوں !!!!(محمد اعجاز)
میں تاریخ کو کیوں مانوں !!!!
میں تاریخ کو ہی نہیں مانتا یہ میرا وہ جملہ ہے جس سے میرے
کافی دوست اختلاف کرتے ہیں اورآپ بھی شاید اختلاف رکھتے ہو۔
میں تاریخ کو کیوں مانوں؟ کیونکہ ہرواقعہ کا ایک راوی نہیں
ہوتا ۔ جتنے زیادہ راوی اتنے ہی طرح طرح کے انکشافات پڑھنے اور سننے کو ملتے ہیں۔
مجھ جیسا کم فہم مانے تو کس کی بات مانے۔
چلیے اس سوچ کو سمجھنے کے لیے ہم خود تاریخ سے ہی مدد اور
اسی سے بات کرتے ہیں۔یہان ہم صرف کچھ واقعات کا ذکر کرتے ہیں جن سے آپ بھی سمجھ
جائیں گے کہ ہاں میں بھی تاریخ کو نہیں مانتا ہوں۔
تاریخ کا ہی حوالہ دینے سے پہلے ایک تاریخ دان کا تاریخی
بیان بیاں کرتا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ایک تاریخ کو سمجھنے کے لیے بہت سی کتابیں
پڑھنا پڑھتا ہیں۔ کیوںکہ یہ لوگ بھی خود ایک تاریخ کو نہیں مانتے۔
چلیے تاریخ شروع
کرتےہیں۔ حضرت ادمؑ کی جنت میں داخل ہونے پر تو سب متفق ہے لیکن جنت کونسی ہے اس
میں اختلافات ہیں۔
اس بات سے لیکر کہ ابلیس کی پیدائش کس چیز سے ہوئی سب متفق
نہیں، اصحاب کف کی تعداد پر تو سالوں سال جنگ جاری رہاہے۔
حتیٰ کی حضرت تاجدار کائنات ﷺکی پیدائش پر بھی مسلمان ایک
صفحے پرنظر نہیں اتے۔
نور اور بشر ہونے پر مورخیں میں اختلافات تو ایک الگ کہانی
ہے جس کا اندازہ اس موضوع پر رقم شدہ کتابوں کی تعداد سے ہی لگایا جاسکتا ہے۔
باغ فدک تو اختلافات کی ایک اور تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے
ہیں۔
امامت اور خلافت پر بحث کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
حضرت امام حسنؑ ، امام حسیںؑ کی شہادت ، حضرت معاویہ کی
صحابیت ہونے پر، یزید کے جہنمی ہونے، غدیر خم کا واقعہ اور کربلا کے میدان میں
بھوکے پیاسے ہونے اور نہ ہونے پراختلاف ہی اختلاف ہے۔
ہرچیز اور واقعات پر نہ صرف اختلافات ہیں بلکہ ہر ایک کے
پاس اپنے اختلافات کے دفاع میں ناقابل تردید دلائل بھی موجود ہے۔ مجھ جیسا کم علم
ایسے مواقع پر الجھن اور تذبذب کا شکار رہتاہے۔
میں کونسی دلیل کو مانوں اور کس کی نہ مانوں ۔ اس لیے میں
نے فیصلہ کیا کہ میں تاریخ کو ہی نہیں مانتا
کیونکہ تاریخ مجھے سمجھانے کے بجائے تذبذب کی کیفیت میں مبتلا کردیا ہے۔
عقائد میں اختلاف، عملیا ت میں اختلاف، خود تواریخ میں
اختلاف یہاں تک کہ نماز، روزہ، زکوٰتہ ، حج اور کلمہ طیبہ بھی اختلاف سے خالی نہیں
۔
اللہ کو دیکھنے ، نہ دیکھنے پر اختلافات،محمد روسول اللہ
کانفرس اور سیرت محمد ﷺ کانفرس میں اختلاف موجود ہیں۔
عید کی تعداد، طرز حکمرانی، رسم قل، رسم ورواج الغرض ہر چیز
میں تاریخ نے اختلافات کے انبھار لگے ہیں۔
مخالفیں نے اپنی اپنی باتیں ، واقعات اور تواریخ کو منوانے
کے لیے طرح طرح کی باتیں ،تشریحات، اقولات اور واقعات ، جو ایک عام ذہن انکار نہ کرسکتا ہو، پیش کیے ہیں۔
میں نے پہلے اسلامی واقعات کی اسلیے نشاندہی کی ہے کیونکہ
مسلمانوں میں اختلافات کچھ حد سے زیادہ ہے۔کس کی مانوں ، کس کی نہ مانوں۔ تاریخ ہی
ہے جو مجھے سکون دینے کی بجائے شگون میں مبتلا کردیتے ہیں۔
کتابوںمیں اختلاف، انٹرنٹ پر اختلاف، اور مشنیں تو اختلاف
ہی پیدا کرتے ہیں اور اس سے بڑھ کر ایٹم بم تو اسی لیے ہی بنایا ہے۔ ٹینک،
توپیں،مزایل اور طرح طرح کے اوزار تو
تاریخ کے اختلاف پر ہی منحصر ہے۔
طرز معاشرت، طرز معاملات، طرز کاروبار، اصول و قوانیں،
احکام و ہدایات، منصوبہ بندی، یہاں تک کہ طرز زندگی ہی اختلافات سے بنی ہوئی
ہے۔اور یہ سب تاریخ کا ہی مرہوں منت ہے۔
یہ چاند، یہ ستارے، سیارے، سورج الغرض ہر چیز پر تحقیقات ہوئےہیں
ہر ایک نے اختلاف ہی بیان کیے ہیں۔
زمیں کو مانتے ہیں پر آسمان کے بارے میں اختلاف، کائنات پر
اختلاف یہاں تک کہ ریگستان، صحرا، پہاڑ پر بھی اختلاف ہی تو ہے۔
اپنی انا، اپنا من، ارادے، راستے ، صورت، سیرت ، ذات، عمل
حقوق، امتحان، شوق، محبت، شناخت، جلوت، خلوت، زباں، دوست، دشمن ، منزل، مقصد،
دنیا، آخرت حتیٰ کہ زندگی اور موت بھی تاریخ کے وساطت سے اختلاف کا شکار ہے۔
میں اختلافات میں پڑنا نہیں چاہتا اسلیے تاریخ کو نہیں
مانتا کیونکہ یہ سب تو تاریخ کا عمل بھی ہے اور کمال بھی۔اگر تاریخ نہ ہوتا تو کچھ
نہ ہوتا، نہ اختلافات، نہ ذات پات، نہ امیرغریب۔ یہ سب مورخیں کا ایجاد کردہ
ہے۔تاریخ مجھے وحدت کے بجائے کثرت کی طرف دعوت دیتی ہے۔اسلیے تاریخ سے انکارکر رہا
ہوں۔
میں دعوٰی کرتا ہوں کہ آپ بھی تاریخ کو نہیں مانتے کیونکہ
آپ کے اندر بھی انا ہےکوئی آپ کے خلاف
کوئی دلیل پیش کرے تو آپ نہیں مانیں گے۔ آپ صر ف اور صرف ان واقعات اور تاریخ کو
مانتے ہیں جس سے آپ کی سوچ، عمل، فکر اور معاملات ملتے
ہو۔
اگر تاریخ آپ کے خلاف بولے تو آپ تاریخ کو ماننے سے انکار کررینگے۔ فرق صرف ا تنا ہے کہ آپ
خفیہ طور پر انکار کا اعلان کرتے ہیں اور میں کھلا عام اعلان کررہا ہوں۔ورنہ
آپ بھی باغی ہے اور میں بھی۔
لہذا میں چند وجوہات پیش کرکے اپنی بات ختم کرنا چاہتا ہوں۔
میں تاریخ کو نہیں مانتا کیونکہ میں اختلافا ت کی جنگ میں حصہ دار نہیں بننا چاہتا۔.1
میں کثرت کے بجائے وحدت کو ترجیح دیتا ہوں۔ .2
میں واقعات کی تاریخ سے زیادہ واقعا ت کی حقیقت کو مانتا
ہوں۔.3
مجھے تاریخ سے زیادہ کام کی نوعیت پسند ہے۔.4
میں تاریخ سے زیادہ سوچ، فکر، خیالات کو ترجیح دیتاہوں۔.5
۔حقیقت تاریخ سے زیادہ حقیقت اعمال سے فائدہ ہے6.
۔7۔تاریخ لکھنے والا کوئی بھی ہوسکتا ہے اور کچھ بھی لکھ
سکتا ہے۔
8۔مورخ کے بھی کچھ خاندان، رشتہ دار ہونگے وہ ان کے خلاف
کیسے لکھ سکیں گے؟؟؟۔
9۔ ایک واقعہ کو کئی انداز میں پیش کرتے ہیں۔
10۔تاریخ قاتل اور مقتول دونوں کو جنتی ثابت کرنے کی کوشش
کرتے ہیں۔
آخر تاریخ مجھے اطمینان کی راہ سے نکال کر بے چینی کی راہ
پر کیوں ڈالتے ہیں لہذا میں تاریخ کو کیوں مانوں ؟؟؟؟
نوٹ:اس موضوع (یعنی میں تاریخ کو کیوں مانوں ) کو پڑھنے والوں
سے گزارش ہے کہ وہ ایک دفعہ اس کا جواب(یعنی ہاں میں تاریخ کو مانتا ہوں) بھی ضرور
پڑھیں۔کیونکہ یہ دونوں پڑھے بغیر میرا نقطہ نظر مکمل نہیں ہوتا اور نہ ہی قاری کو
وجہ اختلاف سمجھ آئیگی۔
شکریہ
بقلم:محمداعجاز مصطفوی
Date:22/11/16
Wednesday, October 12, 2016
shahad e Hussain (as) our hum
شہادت حسین ؑ اور ہم
ترجمہ : اور ہم ، تمھیں خوف ، بھوک پیاس، اولاد، نفس ، اور ثمرات سے ضرور آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کے لیے خوشخبری ہے۔ ٓاللہ رب العزت نے اس آیت میں تمام انسانوں سے مخاطب ہو کر طریقہ ازمائش اور اسکے نتائج سے اگاہ فرما رہے ہیں۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ہر نیک اشخاص کو طرح طرح سے امتحانات آئے ہیں۔ کسی کو بھوکا پیاسا رکھا تو کسی کو آگ میں کودنا کا حکم ، تو کسی کو اولاد سے امتحان ، کسی کو میوہ کھانا سے روکنا امتحان تو کسی کو بیماری ازمائش ۔
Search
Popular Posts
-
نبی اکرمﷺ کامل معلم و مربی محمدﷺ کی غلامی دین حق کی شرط اول ہے اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے وہ دانا ئےسبل...
-
شہادت حسین ؑ اور ہم ترجمہ : اور ہم ، تمھیں خوف ، بھوک پیاس، اولاد، نفس ، اور ثمرات سے ضرور آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کے لیے خوشخب...

