نبی اکرمﷺ کامل معلم و مربی
محمدﷺ کی غلامی دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے
وہ دانا ئےسبل ختم الرسل مولاے کل جس نے
غبار ے راہ کوبغشا فروغ وادے سینا
آج ہم اس ہستی معزز و مکرم بحیثیت معلم و مربی بیان کرنے
کی کوشش کر رہے ہیں جو اللہ کے رسول، پیارے، دوست، برگزیدہ، افضل مخلوق، پسندیدہ،
مرسل اور مرسلیں کے سردار، پرہیزگاروں کے امام، خاتم الانبیا، گنہگاروں کے سفارشی،
تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر ہمارے دل و نگاہ کی تسکیں کے لیے اس عالم ناسود میں
تشریف لے آئے۔
اس بابرکت ذاب پاک کا جتنا بھی شکر ادا کرو کم ہے کیونکہ اس
نے ہمارے لئے اپنے اس ہستی اعلیٰ کو ہمارے لئے معلم مربی بنا کر بھیجا جس کے لئے
زمیں و آسمان بنائے گئے۔جس کے سامنے نباتات، جمادات اور حیوانات سجدہ ریز ہے۔ وہ
ہستی مکرم بادشوں کا بادشاہ، غریبوں کا ہمنوا، مسکینوں کے لئے ساتھی ، اپنوں کے لئے
نعمت، غیروں کے لئے رحمت، نور سے زیادہ روشن، علم سے زیادہ عالم، فن سے زیادہ
ماہر، بچوں کے لئے شفقت، بڑوں کے لئے مہربانی، جوانوں کے لئے ہمسفر ساتھی،
انسانوں کے لئے انسانیت کا مجسمہ، اخلاق میں خلق عظیم، سید کون و مکان حضرت محمد
مصطفیٰﷺ ہے۔
آپ ﷺ کی ذات معلم اعظم ہے اور اسی پر آپ فخر کرتے ہوئے
فرماتے ہیں انما انا بعثت معلما یعنی مجھے معلم اعظم بنا کر بھیجا ہے۔


