My name is Muhammad Ejaz Mustafavi and this is is my personal Web blogger page. I have entered all information concerning myself on this is Web Page. You may acquire all sorts of information regarding myself.Thanks for considering

Wednesday, October 12, 2016

shahad e Hussain (as) our hum

شہادت حسین ؑ اور ہم


ترجمہ : اور ہم ، تمھیں خوف ، بھوک پیاس، اولاد، نفس ، اور ثمرات سے ضرور آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کے لیے خوشخبری ہے۔ ٓاللہ رب العزت نے اس آیت میں تمام انسانوں سے مخاطب ہو کر طریقہ ازمائش اور اسکے نتائج سے اگاہ فرما رہے ہیں۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ہر نیک اشخاص کو طرح طرح سے امتحانات آئے ہیں۔ کسی کو بھوکا پیاسا رکھا تو کسی کو آگ میں کودنا کا حکم ، تو کسی کو اولاد سے امتحان ، کسی کو میوہ کھانا سے روکنا امتحان تو کسی کو بیماری ازمائش ۔ آج ہم ایک ایسی ہستی کا طریقہ امتحان بیان کرنے جارہے ہیں جن کے لیے اگر ہم یہ کہے تو غلط نہ ہوگا کہ جسکی ذات اطہر پر بیک وقت خوف ، بھوک پیاس، اولاد، نفس ، اور ثمرات کے امتحان حاضرہوہے ہیں۔ جب خوف کا امتحان میں کامیاب ہوا تو اسے خلیل اللہ ،اولاد کی امتحان میں کامیاب ہوا تو اسے صابر اور نفس کا امتحان پاس ہو ا تو اسے زبیح اللہ کا خطاب سے نوازا جائے تو آ ج میرے حسینؑ کو کیا خطاب عطا کروں کہ انھوں نے تو بیک وقت ہر طرح کے امتحانات پاس کیے ۔ آ ج میرے حسینؑ کو کیا خطاب عطا کروں کہ انھوں نے اسلام کے احیاء و بقا کے لیے یزید جیسے لعنتی کی بیعت نہ کرتے ہو ئے میدان کربلا میں جام شھادت نوش فرمائی۔آپ ؑ اور آپ ؑ کے اصحاب کرام ؑ کو تین دن بھوکا پیاسا رہنا پڑے۔ شہر مد ینہ کو چھوڑ کر حج کو عمرہ میں بدل ڈالے۔ اولاد کی قربانی کے لئے اکبر و اصغر ؑ کو ساتھ رکھا اور اصحاب کرام ؑ میں حبیب ؑ جیسے بوڑھوں کو اور جب نفس کی ضرورت پڑی تو اسلام کی خاطر سب کو لوٹا کربارگاہ ایزدی میں یوں دعا فرمارہے ہیں یا اللہ میری یہ ان بہتر نفوس کے قربانی کے صد قے اسلام کو تا قیامت زندہ رکھیں۔ میں حضرت سید الشھداء اور ان کے اصحاب کرام ؑ کی کن کن خوبیوں اور صفات کا زکر کروں اور کس کس کا نام لوں ۔ بہیتر جانثارورں کے سردار میر ے اور آپ کے آقا کے بارے میں اتنا ہی کہوں گا کہ میرے حسین ؑ پر بیک وقت ایک ایسے امتحان آئے جو بڑے بڑے پیغمبروں پر بھی شاید آیا ہو۔میرا سلام ہو حسینؑ اور اہلبیت حسینؑ پر میر ا سلام ہو یتیمان و اسیران کربلا پر تاہم اس دور میں ہر کوئی حسینی کا نعرہ تو بلند کرتا ہے لیکن مشن حسینی کو آگے بڑھائے بغیر مقصد پورا نہیں ہوتا,آج ہم مشن حسینی ؑ کو دبا کر مشن یزید کو آگے بڑھا رہے ہیں پھر بھی ہم حسینی ؟؟؟ حسین ؑ نے تو دین کے لئے اپنی جان قربان کئے اور آج ہم اپنی جان کے لئے ایمان بیج رہے ہیں پھر بھی ہم حسینی ؟؟؟ تلاوت قرآن ، ذکر خدا کے لئے ہمارے پاس وقت ہی نہیں پھر بھی ہم حسینی ؟؟؟ نماز نہیں پڑھتے ، روزہ نہیں رکھتے ، زکوۃ نہیں دیتے پھر بھی ہم حسینی ؟؟؟ بد دیانتی ، بد کاری ، بے غیرتی ، بے حیائی اور بے شرمی عام ہو پھر بھی ہم حسینی ؟؟؟ غریبوں سے نفرت ، امیروں سے محبت کرتے ہیں پھر بھی ہم حسینی ؟؟؟ اصلاح کرنے کی ہمت نہیں ، انصاف کے لیے وقت نہیں ، فکر کرنے کے لیے فرصت نہیں پھر بھی ہم حسینی ؟؟؟ یہ کسے حسینی ؑ ہیں ہمیں اپنے دعوی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگر ہمارا یہی حال رہا تو شکل عاشق سے مشوق بیزار ہے والی بات ہوگی ۔ہمیں اصل مشن حسینیؑ کو دنیا میں پھیلانے کی ضرورت ہے ، اخلاق ، آدب ، غیرت، حمیت ، جمیت، تلاوت ، معاشرت، سخاوت سکیھنے اور سکھانے کی ضرورت ہے۔ 

Share:

0 comments:

Post a Comment

Copyright © Muhammad Ejaz Mustafavi | Powered by Blogger
Design by SimpleWpThemes | Blogger Theme by NewBloggerThemes.com